بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔نہ ہی کوئی فرقہ اور نہ ہی قومیت یہ انسانوں کی آبادیوں کو گروہوں میں تقسیم نہیں کرتی ۔
بس یہ لاچاری، بےبسی ، ضرورت اور جب آپ اپنی استطاعت کے مطابق کچھ بھی خرید نہ سکیں۔
یہ آپ کی مجبوری اور بے بسی کی داستان رقم کرتی ہے۔
یہ وہ نوحہ ہے سننے اور دیکھنے والے بےحس دل
پر بھی اگر اس کی مہر لگے تو انکی آنکھیں بھی اشکبار ہوجاتی ہیں۔
یہ درد مندوں کی داستان بیان کرتی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھوٹی سی بچی کی بھوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے
جس میں دیکھا جاسکتاہے کہ وہ کس قدر آرام سے اطمینان سے خالی دیگچی میں ہاتھ لگا کر اپنی منہ کی جانب اپنا ہاتھ بڑھاتی ہے کہ جیسے اس دیگچی سے کچھ نکال کر وہ کھارہی ہوں۔
ننھی پری کے بھوکے پیٹ کی اداکاری نے سب کو رونےپر مجبور کردیا ۔
بے اختیار ضبط کے بندھن ٹوٹے وہ آہیں سسکیاں نکلی جس نے سب پر سقوط طاری کردیا ۔
وہ چیخ نکلی
جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔
کم عمر نہ سمجھ بے بس اس بچی کی ویڈیو نے اب تک
سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے ۔
جو دیکھتے ہے توبہ توبہ کرنے لگتاہے ۔حال ہی
میں سیلاب متاثرین ایک آفت سے نبردآزما تو ہیں ہی لیکن اس دکھ درد اور تکلیف کی
کیفیت میں معاشرتی رویے انسان دیکھ کر ایک پل میں سو بار رو پڑتاہے۔
لاچاری اور بے بسی کی عملی تصویر بنے یہ سیلاب متاثریں آخرجائے تو بھلا جائے بھی کہاں اپنے دیس میں اپنی زمین پر لاوارث اور بے بس خیموں اور سڑکوں پر دربدر نظر آئے کسی نے کہاکہ ہمیں کھانا دو لیکن ہماری تصویر مت لو۔
کسی نے کہاکہ ہماری مدد کرو لیکن سب کو نہ بتائو ہم کس حال میں ہیں کس تکلیف میں ہے ۔
انسان اپنے عیب کمزوری سب سے چھپانا چاہتاہے لیکن وقت ظالم بے رحم اور ستمگر ہے ۔انسان سے وہ کام بھی کرالیتاہے جو انسان کبھی سوچا بھی نہیں ہوتاہے۔
درد کی دہلیز سے کہیں کوسوں میل دور بے بس سیلاب متاثرآپ کو بظاہر بے گھر
، بے سامان اور دو وقت کی روٹی کے محتاج تو نظر آرہے ہیں لیکن عملی طورپر ایک ایسے
کڑے امتحان سے گزررہےہیں جس کا انہوں نےکبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
ہمیں مشکل کے اس وقت میں ہر اس مجبور شخص کی
مدد کرنی چاہیے بغیر تصویر اور ٹی وی کی کوریج کے۔
کیونکہ صحابہ کرام کے دور میں نیک عمل کی تشہیر
نہیں ہوا کرتی تھی خدارا اپنے دیس کے لوگوں کو اپنا جانئیے اپنا مانیئیے ان کی وقتی
مجبوری کا فائدہ نہ اٹھائے انکے حال پر
رحم کھائے اور آئے انکی مدد کریں ایسے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے۔