کراچی میں دندناتے لٹیرے مال کے ساتھ شہریوں کی جان کے بھی دشمن بن گئے

عدنان اطہر عدنان اطہر

کراچی   میں  دندناتے لٹیرے مال کے  ساتھ شہریوں کی جان کے بھی دشمن بن گئے

کراچی   میں  دندناتے لٹیرے مال کے  ساتھ شہریوں کی جان کے بھی دشمن بن گئے

 لیاقت آباد میں اتوار  کو   ڈاکؤوں کی فائرنگ سے جاں بحق  نوجوان کو سپر د خاک کردیا گیا۔

مقتول پنکچر شاپ چلا کر  گھر کی کفالت کرتا تھا۔ لواحقین نے میت کے ہمراہ مرکزی شاہراہ پر احتجاج بھی کیا۔

لیاقت آباد نمبر چار کی فٹ پاتھ پر  رکھے پرانے ٹائرز  اور بند پڑا پنکچر کا کیبن،

 اب شاید کبھی دوبارہ نہ کھل سکے گا،

کیونکہ یہ پنکچر کی چھوٹی سی دکان جس نوجوان کا ذریعہ معاش تھی اسے دن دہاڑے ڈاکؤوں نے گولیاں مار کر قتل کردیا

21 سالہ محنت کش مزمل یہ چھوٹی سی دکان چلا کر صرف اپنا ہی نہیں بلکہ والدین اور ذہنی معذور بڑے بھائی کا پیٹ بھی  پالتا تھا۔

مزمل کی نماز جنازہ لیاقت آباد میں ہی  گھر کے قریب واقع مسجد میں ادا کی گئی

  ڈاکؤوں کے ہاتھوں بے گناہ نوجوان کے قتل پر لواحقین ہی نہیں اہل  محلہ بھی غمزدہ نظر آئے۔

ان کا کہنا  تھا کہ لٹیرے بے خوف وارداتیں کرتے پھر رہے ہیں ،کوئی پوچھنے والا نہیں۔

 

علاقے  میں بڑھتی وارداتوں ، نوجوان  کے قتل  اور ملزموں کی عدم  گرفتاری پر لواحقین  اور اہل محلہ نے مرکزی شاہراہ بلاک کرکے احتجاج بھی کیا

 

 کراچی  پولیس کا دعویٰ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج  سمیت دیگر شواہد جمع کرلئے گئے ہیں، نوجوان مزمل کو قتل اور دوسرے شخص کو زخمی کرنے والے   ملزموں کی تلاش تیز کردی ہے۔رواں سال کراچی میں    ڈاکؤوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 71 تک جا پہنچی ہے۔۔۔