سیلاب متاثرین کی حالت زار دیکھ کر چیخ چیخ کر
رونے کو جی چاہتا
بھوک تنگ دستی لاچاری بے بسی اب کسی سے دیکھی
نہیں جاسکتی
شاید یہی وجہ ہے آئے روز پر کوئی نہ کوئی ایسی
تصویر واقعہ یا ویڈیو جاری ہوتی ہے۔
جسے
دیکھ کر تنہائی میں زور زور سے چیخیں مار کر رونے کو جی چاہتاہے۔
اس کے علاوہ دنیا میں اب ایسا کوئی لفظ ایجاد
نہیں ہواہے۔
جو
احساس کی ترجمانی کرسکیں سوائے اس کے کوئی اسے محسوس کرسکیں۔
خوشحال خطے کے یہ لوگ اب بھوک سے مررہے ہیں،
بھوک سے لڑ رہے ہیں،
دست وگریباں ہے جن کی مہمان نوازی کی مثالیں
دنیا میں دی جاتی تھیں ، جو ایک قدیم تہذیب کے وارث ہے، ایک چھوٹی سی بچی جو اپنی
جھیل جیسی آنکھوں میں کوئی خوشحالی کے خواب نہیں سموئے ہوئے ہے۔
بس دو
وقت کی روٹی جو اس کی بھوک ختم کر سکے اس کے لیے پریشان ہے بھوک نے جب نشاء کو نڈھال کیا تو کچی مٹی کو
گوندھ کر اس نے مٹی کی روٹیاں بناکر ان سے اپنے بھلانے کا عمل جاری کردیا۔
تصاویر سوشل میڈیا پر وائر ہوتی ہی سب کو حیران
کردیا اب درد ضبط کی حدوں سے پارہوچکاہے۔
حکمران اب بھی دعوے دار ہیں وہ سب کچھ کررہے
ہیں لیکن ان حقیقتوں سے آخر کون نظرے چرائے کون آنکھیں بند کریں کون کہے گا یہ
سب جھوٹ سچ ہے کیا کوئی ان سیلاب متاثرین کو جاکر بتلائے۔