سندھ بھرمیں سیلابی صورتحال کےساتھ روڈانفرااسٹرکچرکو بھی نقصان پہنچا ہے۔

عمران عمران

سندھ بھرمیں سیلابی صورتحال کےساتھ روڈانفرااسٹرکچرکو بھی نقصان پہنچا ہے۔

سندھ بھرمیں سیلابی صورتحال کےساتھ روڈانفرااسٹرکچرکو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کھانےپینےکی اشیا کےترسیلی نظام میں خلل پڑنےسےاشیا مہنگی ہونا شروع ہوگئی ہیں۔

کراچی میں انڈوں کی فی درجن قیمت بھی بڑھ گئی

اب تولوگ انڈے اورسالن بھی ختم ہوگیا ہےاب یہ ہےکہ چٹنی پرآگئےہیں لوگ یہ بھی اللہ چلارہا ہےسسٹم بندوں نےتوبالکل ختم کردیا ہےغریبوں کا جینا سب کچھ مہنگا ہےآٹا پکوان چینی سب کچھ مہنگا ہے

سندھ بھرمیں سیلاب سے نقصانات ۔ سندھ اور بلوچستان میں پولٹری فارمزبھی متاثر۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کےمطابق اکثر فارمزیاتو پانی میں بہہ گئےیامکمل طورپرگرگئے،،

جس گا  اثرانڈوں کی قیمت میں اضافےکی صورت میں سامنےآرہا ہے۔

 شہرمیں انڈوں کی فی درجن قیمت  250 روپے سےتجاوزکرگئی۔

 ایک ہفتےمیں قیمت 30 روپےفی درجن تک بڑھ گئی۔۔ 

18 سے 20 روپےتک کا انڈہ ہوچکا ہےیہ توغریب بندہ کیلئےتوبہت مشکلات ہوگئی ہیں

ابھی توانڈہ فی درجن 270 روپےکا مل رہا ہے،،اس سےپہلے220 یا 230روپے تک مل رہا تھا

سندھ ایگ ڈیلرزایسوسی ایشن کا کہناہےکہ سندھ اور بلوچستان میں طلب اوررسد کا بڑافرق آگیا ہے،، پیداوار40 فیصد کم ہوگئی ہے۔۔

سپلائی بہت کم ہےڈیمانڈ بہت زیادہ ہے،، سپلائی کم ہونےکی وجہ سیلاب ہےاسکی وجہ سے جتنی بھی پراڈکشن تھی 40 فیصد بلوچستان اورسندھ میں ختم ہوگئی ہے

اب صرف 60 فیصد پیداواررہ گئی ہے

سندھ بلوچستان میں پنجاب کابھی حال بہت خراب ہے اسلئےانڈہ کا ریٹ اوراوپرجائیگاکیونکہ آپ دیکھ لیں کوئی چیزآپکونہیں ملےگی 20 روپےمیں

سیلابی صورتحال  میں  دیگر اشیائے ضروریہ کی طرح ناشتےکا اہم جُز  انڈہ بھی مہنگا ہوگیا۔

 ترسیلی نظام میں تعطل اور  پیداوارمیں کمی کا براہ راست اثرمارکیٹوں میں روزانہ کی بنیاد پرقیمت میں اضافےکی صورت میں دیکھا جارہا ہے۔