بوڑھے والدین کا سہارا۔۔۔بہنوں کی امیدوں کا مرکز۔

عرفان علی عرفان علی

بوڑھے والدین کا سہارا۔۔۔بہنوں کی امیدوں کا مرکز۔

 

بوڑھے والدین کا سہارا۔۔۔بہنوں کی امیدوں کا مرکز۔

کراچی شیر شاہ میں رونما ہوئے ٹریفک حادثے نے سندھ پولیس کے جوان کی زندگی ہی نہیں، پورے خاندان کی خوشیاں بھی چھین لیں۔

کراچی میں شیر شاہ کی سڑک پر رونما ہوا ٹریفک حادثہ، ریٹائرڈ پولیس اہلکار کا ہنستا بستا خاندان اجاڑ گیا۔

ایمبولنس اسپتال پہنچتے ہوئے

جو بیٹا بوڑھے والدین کے علاوہ بہنوں اور  دو معصوم بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ اٹھائے ہوئے تھا، اک دن یوں بچھڑ جائے گا، سوچا نہ تھا۔

لاڈلے اکلوتے بیٹے کی حادثاتی موت پر شدت غم سے نڈھال یہ سندھ پولیس کے جوان شرجیل شہزاد کے والدین ہیں۔

والد کو فکر ستارہی ہے کہ جس بیٹے کی زندگی اور نوکری کے باعث محکمہ کی طرف سے سر چھپانے کو آشیانہ  میسر تھا ، اب  وہ بھی نہ چھن جائے۔

والد شہزاد احمد، ریٹائرڈ پولیس اہلکار۔۔۔ساری ذمہ داریاں اس ہی کہ اوپرتھیں میں سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ مجھےیقین بھی نہیں آتاکہ اپنے ہاتھ سے قبرمیں اتاراہے۔

میں بس آئی جی سندھ اپیل کرتاہوں کہ میں ریٹائربنداہوں میرے بچے کےنام پریہ کوارٹرتھا

۔وزیراعلیٰ سندھ سے کہوں گا اتنی مہلت دی جائے کہ میں کسی بچی کومحکمہ پولیس میں بھرتی کرواں۔۔۔

ماں کو لخت جگر سے آخری مرتبہ ہوئی ملاقات اور باتیں یاد کرکے قرار نہیں آرہا۔

والدہ۔۔۔ساڑھے آٹھ بجےیہاں سے چلاگیا لیکن مجھے جب پتہ چلاہےجب اس کی خبر آگئی کہ وہ واپس  آیا ہی نہیں۔۔۔ہم انتظارہی کرتےرہےکہ اتنی دیرہوگئی کہ ابھی آیاہی نہیں۔۔۔

ٹریفک حادثے میں جان گنوا کر پورے خاندان کو غمزدہ کرجانے والا نوجوان شرجیل  سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔۔۔بے تکلف دوست کی طرح رہنے والے بھتیجے کی موت کی اچانک موت نے چچا کو بھی صدمہ میں مبتلا کررکھا ہے

ہیڈ کانسٹیبل فرحان،چچا۔۔۔دوسروں کی ذمہ داریاں بھی اپنےسرلیتاتھا۔۔۔ہم پریشان ہوتے تھےہمیں بلکہ چھوٹاہوکرحوصلہ دیتاتھا۔۔۔چاچوپریشان نہ ہو۔۔۔بس چلا گیا ۔۔۔پتہ بھی نہیں اپنے ہاتھ سے غسل دیا اپنےہاتھ سے قبر میں اتارایقین بھی نہیں آتا۔

زندگی کے تینتیس برس  محکمہ پولیس   میں خدمات  سر انجام  دے کر ریٹائرڈ ہونے والے شہزاد احمد  نے اکلوتےبیٹےکو بھی محکمے سے مخلص اور وفادار رہنے کا درس دیا۔

غمزدہ خاندان پر امید ہے کہ محکمہ،، امتحان کی اس گھڑی میں ان کے  زخموں پر مرہم رکھے گا۔