انتظار قتل کیس میں اپیلوں پر ٖفیصلہ آگیا۔دو پولیس اہلکاروں کی سزائے
موت عمر قید میں تبدیل۔
چھ ملزموں کی عمرقید کی سزا ختم کر کے بری کردیا
گیا۔
کیس میں دہشت گردی کی دفعہ
بھی ختم کردی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ نے انتظار
قتل کیس میں سزا کے خلاف پولیس اہلکاروں کی اپیلوں پر فیصلہ سنادیاگیا۔
عدالت نے دو پولیس
اہلکاروں بلال رشید اور محمد دانیال کی
سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی۔
چھ ملزمان طارق محمود،طارق رحیم ،اظہرحسین, شاہد
عثمان، غلام عباس اورفوادخان کی عمرقیدکی سزاکالعدم قراردے کربری کردیا ۔
عدالت نے کیس میں دہشت گردی
کی دفعہ بھی ختم کردی۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا اور جسٹس ذوالفقار علی
سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فریقین
کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے دو پولیس اہلکاروں
بلال رشید اور محمد دانیال کو سزائے موت سنائی تھی۔
سابق ایس ایچ او طارق
محمود ،طارق رحیم،اظہر احسن کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
تین پولیس کانسٹیبل شاہد
عثمان ،غلام عباس اور فواد خان کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
استغاثہ کےمطابق
تیرہ جنوری دوہزار اٹھارہ کو ڈیفنس
میں گاڑی نا روکنے پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے انیس سالہ انتظار احمد کو قتل کردیا تھا۔