نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پائیدار امن کے لیے مزید کام باقی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم آفس نے امریکی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور اسرائیل پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کو دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے مذاکراتی وفود کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی اور کہا کہ "اسلام آباد مذاکرات" پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے۔ قازقستان کے صدر نے بھی جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ عالمی تجارت اور معاشی خوشحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد "100 فیصد فتح حاصل کر لی گئی ہے"۔ ان کے مطابق 15 نکاتی منصوبے میں سے زیادہ تر پر اتفاق ہو گیا ہے اور آج کا دن عالمی امن کے لیے اہم ہے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ "آج سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے سنہری دور کا آغاز ہو گیا ہے" اور امریکا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی روانی برقرار رکھنے میں مدد کرے گا۔