کراچی
ضلع وسطی میں دودھ کی قیمتوں کو پر لگ گئے سرکاری قیمت 120 روپے مقرر کی گئی لیکن
شہریوں کو دودھ 180سے 2 سو روپے میں فروخت کیا جارہا ہے
شہری
کہتے ہیں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کی ملی بھگت سے شہریوں کو مہنگے داموں دودھ
کی فروخت جاری ہے
شہر
میں دیگر اشیاء خردونوش کی طرح دودھ کی قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں
کمشنر کراچی نے دودھ کی قیمت ایک سو بیس روپے
کلو مقرر کی لیکن دکاندار ایک سو اسی سے دو سو روپے فی کلو دودھ فروخت کرنے لگے۔
ضلع
وسطی ناظم آباد ۔لیاقت آباد ۔ عائشہ منزل اور دیگر علاقوں کے رہائشی افراد الزام
عائد کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ دودھ اور دیگر اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں
سنجیدہ نہیں
ایک
سو بیس تو پرانے ریٹ پہلے فروخت ہوتا تھا اب نہیں ہوتا اب ایک سو اسی یا دو سو تک
بھی ملتا ہے
دو
سو روپے ہوگیا نا اب دودھ تو یہ بہت مہنگائی ہوگئی ہے اب جہاں ہم ایک کلو لیتے تھے
اب آدھا کلو لینا شروع کردیا ہے
ضلع
وسطی کے دکاندار الزام عائد کرتے ہیں کہ ہول سیل مارکیٹوں میں دودھ کی قیمتوں کو
بڑھایا گیا ہم صرف فی لیٹر دس سے پندرہ روپے منافع لیتے ہیں ڈی سی ضلع وسطی
دکانداروں کے بجائے فارمرز کے خلاف کاروائی کریں
اگر
حکومت پیچھے جائے جہاں ریٹ والے ریٹیلرز والے جو ہے ان سے بات کرے وہ انہیں پروپر
جو حساب کتاب ہے دیکھائے
اس
کے بعد ہی پوسیبل ہے اب ایک چیز پیچھے سے مہنگی آرہی ہے تو ہمیں پروفیٹ رکھ کر
فروخت کرنا پڑتا ہے لیبر ہے
تھیلیاں
ہے اور بھی معاملات ہے گھر دیکھنا ہے پیچھے جاتے نہیں ہمارے پاس آجاتے ہیں ہمیں
بند کروادینگے
ضلع
وسطی میں دودھ کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور شہریوں کے سوالات کا جواب جاننے کیلئے
چہرہ چہرہ نیوز ز نے ڈی سی سینٹرل طحہ سلیم
سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا