وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس

نزاہت خان نزاہت خان

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں کابینہ  کا اجلاس

سندھ میں  سیلابی  پانی تربیلا ڈیم    کے پانی سے چار گناہ زیادہ تھا۔

 دسمبر تک  تمام سیلاب زدہ علاقوں سے  پانی کی  نکاسی مکمل ہوجائے گی۔

گھروں اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا سروے جاری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی صدارت میں کابینہ  کا اجلاس  ہوا  ۔

شرکا کو بتایا گیا کہ   اربن فلڈنگ کے خدشات پر باسٹھ ہزار، چار سو چھیانوے ہزار  خاندانوں  کا انتظام کیا گیا تھا۔

اٹھارہ سے پچیس اگست تک  تباہ کن بارشیں ہوئیں۔

پہاڑوں سے سیلابی پانی نے رائیٹ بینک پر تباہی مچادی۔ دریاء میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور بارشوں کے سلسلوں نے بہت بڑا نقصان کر دیا۔

 ایک کروڑ تیئس لاکھ، چھپن ہزار سے زائد لوگ متاثر  ہوئے اور  تیئس لاکھ سے زائد گھروں کونقصان پہنچا۔

کابینہ  کو آگاہ  کیا  گیا کہ  متاثرہ گھروں اور فصلوں کو پہنچنےوالےنقصان  کا سروے جاری رہے۔ 

جانی نقصان کی بھی تصدیق ہورہی ہے۔امداد ی کارکنوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ متاثرین میں اب تک انیس لاکھ راشن بیگ،چھ لاکھ ترہتر ہزار خیمے، پانچ لاکھ پینتالیس ہزار ترپالیں، چونتیس لاکھ مچھر دانیاں،اور سولہ لاکھ کمل تقسیم کئے گئے ہیں۔

 وزیراعلی نے متاثرین کی مدد پر ڈونر ایجنسیز کا شکریہ ادا کیا۔

 وزیر آب پاشی نے بتایا کہ دریائے سندھ کے دائیں کنارے  سے ستر  فیصد پانی کی نکاسی ہوچکی ہے۔

 نومبر تک پچاسی فیصد اور دسمبر تک  تمام سیلابی پانی نکال دیا جائے گا۔