سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے آرمی چیف کی تعیناتی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی،،لیکن یہ تعیناتی خوش اسلوبی سے ہوگئی۔قانون کے اندر رہے تو ہم ،،
ورنہ رانا ثنا اللہ ،، لانگ مارچ کا استقبال کریں گے۔
کراچی کی احتساب عدالت میں میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر میڈیا میں تماشا لگایا گیا۔
سنیارٹی کی بنیاد پر تقرری ہونا تھی،، جو ایک دن میں مکمل ہوگئی۔
عمران خان کو اکثر باتیں دیر سے سمجھ آتی ہیں۔ آئین پڑھ کر تعیناتی کا عمل انہیں سمجھ آگیا ہوگا۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان ایک ماہ سے سفر میں ہیں،،لیکن ابھی تک وہ اسلام آباد نہیں پہنچ سکے ۔
عمران خان قانون کے اندر رہے تو استقبال کریں گے ،، دوسری صورت میں رانا ثنا اللہ استقبال کے لئے موجود ہوں گے۔
سرکاری افسران نیب کی موجودگی میں فیصلہ نہیں کرسکتے۔
نیب کا موجودہ ادارہ ختم کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر احتساب کا نیا نظام بنانا ہوگا۔
احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کے خلاف پی ایس او میں غیر قانونی بھرتیوں کے ریفرنس پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی چوبیس دسمبر تک ملتوی کردی۔