کراچی میں پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز

عمران عمران

کراچی میں پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز

کراچی میں پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس میں ملک بھر کے نامور ادیب اور شعراء سمیت مندوبین کی بڑی تعداد شریک ہے۔

انور مقصود اور زہرا نگاہ نے افتتاحی اجلاس کی رونق بڑھائی۔ وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار

شاہ بھی اجلاس کا حصہ بنے۔ اقبال اور قوم کا سیشن ہوا۔

پہلے روز کا اختتام ایاز فرید اور ابو محمد کی قوالی پرفارمنس پر ہوا۔

پندرہویں عالمی اردو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انور مقصود نے اپنا مزاحیہ انداز اپنایا۔

کہا احمد شاہ کراچی سے باہر کانفرنسز کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی بیگم کی فرمائش ہے۔


احمد شاہ نے ابھی جن شہروں اور ملکوں کے نام لیے ہیں وہاں ان کی بیگم جانا چاہتی ہیں۔۔ورنہ اتنی جلدی یہ پروگرام نہیں بن سکتا۔ ان کی فرمائش تھی۔ احمد شاہ نے کہا چلیں اردو کانفرنس کرتے ہیں

زہرا نگاہ کا کہنا تھا کہ بڑھتی مہنگائی اور گرتی ساکھ نے صرف عوام کی کمر نہیں توڑی غرور بھی توڑ دیا ہے۔


 بلکہ اب تو یہ عالم ہے کہ کوئی باہر سے فون کرتا ہے اور پوچھتا ہے آپ کے ہاں کیا حالات ہیں۔ تو لوگ جواب دیتے ہیں بہت اچھے ہیں۔ دوسرا تعجب سے کہتا ہے ہم نے سنا تھا خراب ہیں۔ کہنے والا کہتا ہے کوئی حالات ہیں ہی نہیں جو اچھے ہیں یا خراب

وزیر ثقافت و تعلیم سردار شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں میوزک اور آرٹ ٹیچر بھرتی کیے جارہے ہیں۔

ہم نے آرٹ کے اسکول بنائے ہیں۔ سندھ اسکول آف پرفارمنگ آرٹس قائم کیا ہے۔ ہم یہاں پہ آرٹس کونسل کا سندھ میں نیٹورک بنانے جارہے ہیں جسے احمد شاہ صاحب لیڈ لے رہے ہیں

صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ 13 سے 15 جنوری تک گوادر میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول منعقد کیا جائے گا۔

پہلے روز کا اختتام ابو محمد اور ایاز فرید کی قوالی پرفارمنس پر ہوا۔