ابراہیم حیدری کے ساحل پر صبح ہوتے ہی شکاریوں کی کشتیاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں

عمران عمران

ابراہیم حیدری کے ساحل پر صبح ہوتے ہی شکاریوں کی کشتیاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں

کراچی میں موسم سرد ہوتے ہی فشریز سمیت مختلف مقامات پر مچھلی کی فروخت میں تیزی آ جاتی ہے۔


ابراہیم حیدری کے ساحل پر صبح ہوتے ہی شکاریوں کی کشتیاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں

 ،،جہاں لوگ  دور دراز  سے مچھلیاں خریدنے پہنچتے  ہیں۔


جے ٹیز پر مچھلیاں فروخت کرنے والے مچھیرے  قیمت کم ملنے اور سہولیات نا ہونے کا  شکوہ کرتے ہیں ۔


کراچی میں موسم سرد ہوا تو مچھلی کی مانگ  میں اضافہ ہوگیا۔مچھلی مارکیٹوں میں رش  بڑھ گیا۔

فشری اور دیگر مارکیٹوں کی طرح ابراہیم حیدری کے ساحل پر بھی  شہری مچھلی خریدنے پہنچ گئے۔


شہری کہتے ہیں ابراہیم حیدری جیٹی پر تازہ اور سستی مچھلی با آسانی مل جاتی ہے

رات بھر شکار کرنے والے  ماہی گیر  صبح سویرے جیٹی کے قریب مچھلی فروخت کرتے ہیں۔


ماہی گیر ابراہیم حیدری جیٹی پر حکومت کی جانب سے سہولیات کی عدم دستیابی کا شکوہ کرتے ہیں۔

نئے کپڑے پہن کر آتے ہیں گندے کپڑے جاتے ہیں


غریب بندہ بس گزر بسر کررہاہے حکومت کا کوئی انتظامات نہیں نہ مال کا ریٹ ہے

مہنگائی سے ماہی گیر بھی پریشان  ہیں۔ کہتے ہیں جتنی محنت ہے اتنے   مچھلی کے دام   نہیں ملتے۔


 ماہی گیرگھر میں پانچ بچے دو میاں بیوی ہیں تو راشن لے دودہ لے یا بیمار کو دوا دے

سردی کی  لہر اآنے کے بعد   شہر کی  مچھلی مارکیٹوں میں  خریداروں  کا رش ہے۔


لیکن شہریوں کو  تازہ اور سستی مچھلی خریدنا ہو ،،تو وہ ابراہیم حیدری کے ساحل کا رخ کرتےہیں۔