ٹہر ٹہر کر بولنا ، لہجے میں خوداعتمادی مگر دکھ درد رنج اورکرب سے بھرا ہوا ، دل میں ایک تمنالیے کسی کے کام آجائو کوئی پریشان نہ ہو کوئی بھوکا نہ سوئے ، کوئی ماں باپ کے بغیر نہ رہے، تعلیم ترقی سب کا مساوی حق ہے، جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی کے ساتھ نہ ہو۔ سب ایک گھر ایک کنبے کی صورت میں ساتھ ہوں۔ زندگی خوبصورت ہے۔ اسے مزید خوبصورت بنائے اپنوں کا اعتماد حاصل کرکے ایک دوسرے پر بھروسہ کرکے، رشتے مضبوط بنائیں زندگی کو خوبصورت بنائیں
چہرہ نیوز سے باتیں کرنے والی یہ لڑکی کوئی بڑی عمر کی نہیں انکی
خود کی عمر تتلیوں کو پکڑنے اور پریوں کے
خواب بننے کی ہے لیکن انسانیت سے عشق نے انہیں سب کچھ بھلانے پر مجبور کیا
اعلیٰ تعلیم کےحصول کےلیے دیار غیر میں ایم بی بی ایس کی اسکالر شپ ملی لیکن چند سیمسٹر
کرکے وطن واپس لوٹ آئی ۔
آنکھوں میں صرف بلوچستان کے لوگوں کی خوشحالی کے خواب ہے وہ اس وقت بلوچستان
میں سب سے کم عمر فلاحی ادارہ چلانے والی ایک لڑکی ہیں جنہیں شہرت ، دولت اور
اعلیٰ رتبہ اور مقام سے نہیں صرف اپنے وطن کے لوگوں سے پیار ہے اور یہ پیار کیسے
عبادت میں بدلہ چہرہ ڈیجیٹل پر نایاب کومل کا خصوصی انٹرویو ۔
چہرہ ڈیجیٹل : نایاب کومل اپنا تعارف کرائیں؟
نایاب کومل :میرا تعلق صوبہ بلوچستان کے علاقے پنجپائی سے ہے۔
چہرہ ڈیجیٹل: اپنی کامیاب کی کہانی بتائیں فلاحی ادارے کی جانب کیسے راغب ہوئیں؟
نایاب کومل : دراصل یہ جو خدمت خلق کا جو کام ہے۔ جو جذبہ ہے جو جنون ہے وہ بچپن سے ہی میرے اندر موجودہے۔
میری فیملی اس طرح کے کاموں سے شروع سے وابستہ رہی ہے ۔
میری اپنی والدہ بھی ٹرسٹ چلا رہی تھی۔
اور وہ بھی اسی طرح انسانی خدمت میں مشغول رہتی تھیں ۔
اس کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد کا تعلق سیاست کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں کی طرف شروع سے رہاہے۔
گھر کے ماحول کو دیکھ کر ہی میرے اندر خدمت خلق جذبہ مزید ابھر کر سامنے آیا اور2017 سے میں اس کام سے وابستہ ہوئی ۔
جب کام کاآغاز کیا تو میری عمر اتنی نہیں تھی چھوٹی عمر میں ہی میں اس کام سے منسلک ہوگئی۔میں اپنی تعلیم بلوچستان سے ہی حاصل کی ہے میٹرک کوئٹہ سے جبکہ کالج کی تعلیم میں نے سبی سے حاصل کی۔
میں چاہتی تھی کہ بلوچستان کے ایک ایسے علاقے سے تعلیم مکمل کرو جہاں کم سہولیات ہے ۔
لیکن سبی میں بہت مزہ آیاہے وہاں ضلع میں میں نے سیکںڈ پوزیشن حاصل کی۔
پھر میری والدہ نے مجھے تجویز دی کہ مزید تعلیم کےلیے آپکو ملک سے باہر تعلیم حاصل کرنے کےلیے جانا چاہیے ۔
دوہزار انیس میں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرلیا اور دوہزار بیس کے آغاز میں مجھے روس جانا پڑا جہاں پر میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنےلگی۔
وہاں کا تھرڈ سیمسٹر مکمل کرلیا تھا جب کہ فورتھ سیمسٹر شروع ہوچکا تھا۔والد سےاکثر فون پر بات چیت ہوتی رہتی تھی انہوں نے مجھے بتایاکہ
آپ سے ملنے کے لیے مختلف لڑکیاں آتی ہیں۔
آپ کے بارے میں پوچھتی ہیں ۔
ایم بی بی ایس کا مقصد یہ تھا کہ میری والدین مجھ سے مطمین ہوجائے اور خوش ہوجائیں ۔
جس طرح پاکستان کے ہر گھرانے کی خواہش ہوتی ہے کہ انکی بیٹی ڈاکٹربنے۔لیکن اس فیلڈ میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
کیونکہ میں سوشل ورک کرنا چاہتی تھی
۔جب میں نے یہ سنا کہ مجھ سے ملنے کے لیے وہ لڑکیاں آج بھی گھر آتی ہیں اور پھر میں نے ایم بی بی ایس کا ارادہ ترک کردیا اور سوچ لیاکہ اب دوبارہ واپس پاکستان جائوگی ۔
دو ہزار اکیس کے آغاز میں دوبارہ پاکستان آنا
ہوا۔اور میں نے اپنا ایم بی بی ایس کرنےکا ارادہ ترک کردیا اور سب چھوڑ کر واپس
پاکستان آگئی ۔
چہرہ ڈیجیٹل: فلاحی کاموں کو ہی آپ نے کیوں چنا لڑکیاں تو فیشن ، شو بز ، سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں آپ نے رنگوں چوڑیوں کی دنیا چھوڑ کر انسانیت کی خدمت کو کیسے اپنانا ہوا؟ اس کے علاوہ
چہرہ ڈیجیٹل: بلوچ گھرانے سے تعلق رکھنا پھر فیلڈ میں کام کرنا کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
نایاب کومل : واپس آتے ہی میں نے دوبارہ اپنا کام شروع کردیا ۔
اس وقت اسے دوبارہ شروع کرنے میں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔
میرے والدین کی علیحدگی ہوچکی تھی تو بہن بھائیوں کے ساتھ اس کام کو شروع کرنا میرے لیے تھوڑا مشکل ہوگیا تھا۔
لیکن مشکلات کے باوجود بھی میں نے اس کا کام دوبارہ آغاز کیا ہمت نہیں ہاری اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
والدین نے بھی اس کام سے روکنے کی کوشش کی کہاکہ اپنی تعلیم مکمل کریں آپ کے اندر بہترین صلاحیت ہے اچھی تعلیم حاصل کرسکتی ہے اورآگے بڑھ سکتی ہے۔
اگر آپ ایم بی بی ایس نہیں کرنا چاہتی ہے سی ایس ایس ، پی سی ایس یا کوئی بھی کمیشن کا امتحان پاس کریں بیورو کریسی میں آجائے آگے بڑھے۔
میرا دل نہیں مانا مجھےیہ لگتا تھاکہ شاید میں تعلیم کی طرف چلی گئی جن لوگوں کی جس انداز میں میں مدد کرنا چاہتی ہوں شاید ویسے نہ کرسکوں۔
میری بہن نے اس کام میں میرا بڑا ساتھ دیا میں نے اور انہوں نے مل کر کوئٹہ کے مختلف مقامات کا دورہ کیا ان علاقون کی خواتین کے مسائل جاننے کی کوشش کی۔انکو ایک سادہ سی ورکشاپ کرائی ۔
جس میں انہیں بتایا گیا ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
ان کو اعتماد دیاہے یقین دلایا کہ ہم حقیقی طور پر آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں انہیں باقاعدہ میں نے اپنے گھر کا پتہ دیا ہے پھر آہستہ آہستہ اعتماد بحال ہوا لوگ ہم پر یقین کرنے لگے پھر گھر آنے لگے اپنے چھوٹے بڑے مسائل لیکر ہم انکی ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار رہتے تھے اور کرتے رہتے تھے۔
پھر مخیر حضرات کی جانب سے ہمیں مدد ملنے لگی ۔
جس کی وجہ سے ہم لوگوں کی مدد کرتے جارہے تھے اب حال ہی میں سیلاب نے پورے ملک کا نقشہ بدل کررکھ دیاہے۔
لیکن اللہ کے کرم سے میں نے اور میری ٹیم نےاب تک ہم نے آٹھ سو خاندانوں کو ریسکیو کیا اور انہیں راشن فراہم کیاہے۔
چہرہ ڈیجیٹل: فلاحی ادارے کا قیام عمل میں کیسے آیا؟
جب ہمارا کام چل پڑا ،لوگ جاننے لگے تو پھر انکا ایک ہی سوال ہوتا تھا کہ آپ لوگ کام تو کررہےہیں لیکن آپ کے ادارے کا کیا نام ہے ۔پھر میں نے اور میری ٹیم نے اسے ویٹا۔۔۔۔ WETA کا نام دیاہے Women empowering & training Association .
اس کے علاوہ میرے کام اور کوششوں کو دیکھ کر مجھے
Balochistan women rights for divorce and widow welfare organization کا سی ای او بھی بنایا گیا.
چہرہ ڈیجیٹل: اس میں کیاکیا کامیابیاں حاصل کیں پھر کیسے لوگوں کو اس جانب راغب کیا ؟
جو آپ بچپن میں سوچتے ہیں چاہتے ہیں تو میں اکثر باہر جاتی ہوں لوگوکے مسائل دیکھتی ہو پریشانیاں دیکھتی ہوں تو میرے اندر سے آواز اٹھتی ہے.
ایک ایسی کیفیت میں جلدی سے ان کے سب مسائل حل کردو ۔
اسے آپ یوں سمجھ
سکتےہیں دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔میں بے چین ہوجاتی ہوں ۔
بس پھر انکی مدد کےلیے میں دن رات کام کرنا چاہتی ہوں اپنی تمام توانائی اسی کام میں لگادیتی ہوں مجھے اچھا لگتاہے کسی کے کام آنا آگے بڑھنا کسی کے لیے جینا بغیر مطلب اور مقصد کے زندگی مجھے مزید خوبصورت دیکھتی ہے یہ سب کرتے ہوئے شاید کچھ اس کا مجھے اب مقصد بھی سمجھ میں آنا شروع ہوگیا ۔ سب کچھ اپنے لیے کرنا زندگی نہیں اوروں کے کام آنا ہی اصل زندگی ہے۔
میرے والدین کی طلاق ہوگئی تو زندگی یکسر بدل کر رہ گئی ۔
پھر سب سے بڑی بات میں سب سے بڑی بیٹی تھی گھر کی۔
طلاق کے بعد میری والدہ صاحب ملک سے باہر فارن کنٹری چلی گئیں۔
اس طرح مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کم عمر میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔پھر میں کبھی نہیں چاہتی تھی کہ جن مسائل کا میں نے سامنا کیا ہےان مسائل کا کوئی اور سامنا کرے۔
اب میں جب بھی کس کا سنتی ہوں کہ کوئی خلع لینے والی ہے خاتون یا پھر کسی گھر میں شوہر بیگم کی نہیں بن رہی ہے وجوہات کچھ بھی ہوں۔
میں کوشش کرتی ہوں اس کو ان مسائل سے نکالو اس کی مدد کرو بات کرکے کسی نتیجے پر اس کو لیکر آئو۔
ایک لڑکی ہونے کے ناطے میں کسی بھی خاتون کے مسئلے سن سکتی ہوں انہیں سلجھا سکتی ہو بہتر اندا ز میں ۔
میں اس درد اس کرب اس عذاب سے گزری ہوئی طلاق ہونا دو لوگوں کا الگ ہونا نہیں ہوتا اس میں کئی لوگ پریشان ہوجاتے ہیں مکمل ایک خاندان کے سب افراد کی زندگی مسائل میں الجھ کررہ جاتی ہے میں نے دیکھا میں اس تکلیف سے گزری ہوں میری کوشش ہوتی ہے کسی کو اس اندھیری گلی میں نہ جانے دو راستے سے ہی اسے واپس لوٹا دو۔۔
بلوچستان میں پہلے طلاق کا ریشو کم تھا لیکن اب یہاں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح طلاق کا ریشو بڑھتا جارہاہے پہلے یہاں ثقافتی لحاظ سے لوگ سوچتے تھےلوگ کیا سوچے گے طلاق ہوئی پھر طلاق یافتہ لڑکی کو معاشرہ قبول نہیں کرتا تھا لیکن اب لوگ میں برداشت کا لیول کم ہوگیا ہے وہ ایک دوسرے کو سن نہیں سکتے سمجھ نہیں سکتے ہر کسی کو اپنا آپ ہی ٹھیک نظر آتا ہے اور وہ زندگی کے ایک ہی پہلو کولیکر بیٹھ جاتے ہیں۔
کوئی کسی کو سمجھنا نہیں چاہ رہاہے۔
عورت محبت سے کہیں ذیادہ جس چیز سے پیار ہے وہ عزت احترام ہے ایک مرد سے سربراہ سے اسے اپنے محافظ سے صرف اور صرف اس چیز کی ہی توقع ہوتی ہےکہ وہ اس کی عزت کرے اس کا خیال رکھے اسے وہ مقام دے جو معاشرے میں توقیر کا باعث ہو ۔
جب ایک خاتون مطمین ہوتی ہے تو اپنے گھر کو ہی پوری دنیا سمجھتی ہے لیکن جب یہ سب پورا نہیں ہوپاتا تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات گھر میں بحث مباحثہ لڑائی جھگڑے بھڑنا شروع ہوتے پھر شدت اختیار کرلتیے ہیں اور آخرکار میں علیحدگی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ممکن ہے وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوجاتاہوں لیکن پھر وقت گزر چکا ہوتاہے اس مقام پر اس جگہ سے دوبارہ زندگی شروع نہیں کی جاسکتی اسے آپ اپنے لیےخود تجویز کردہ سزا کہہ سکتےہیں۔
پھر طلاق کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ شادی کے بعد بھی دوسرے ریلشن میں رہتے ہیں جو کہ مذہبی اور ثقافتی اور معاشرتی طور پر بلکل بھی ٹھیک نہیں جس کے معلوم ہونے پر بھی آپس میں رنجشیں ذیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
مجھے بھی عام لڑکیوں کی طرح گھر سے باہر کام کرنے میں انہیں مسائل کا سامنارہاہے جیسے دوسرے لڑکیوں کو رہتے ہیں پھر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ سب ایک ہی سوال اٹھاتے تھے کہ آپ اپنی تعلیم کو کیوں روک رہی ہے۔ لیکن میں سمجھاتی تھی کہ یہ میرا شوق ہے اور اس سارے عمل میں میرے والد صاحب کی مجھے مکمل سپورٹ حاصل رہی ہے۔ جو ہمیشہ میرے لیےایک ڈھال کر کردار ادا کرتے رہے کسی بھی مشکل کی گھڑی میں انہوں نے مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔
چہرہ ڈیجیٹل:بلوچستان کے معاشرے میں کیاخواتین شخصی آزادی کے ساتھ کام کرسکتی ہیں؟
نہیں کرسکتی ہے ہم نےایک وینٹر کیمپئن شروع کی ہے جس میں ہم مختلف علاقوں سے ڈونیشن حاصل کررہےہیں ۔اس معاشرے میں ایک خاتون ہوکر کام کرنا بےحد مشکل ہے ہمیں کام کے دوران ان چیلجز کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جن کا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔
چہرہ ڈیجیٹل:کیا آپ خواب دیکھتی ہے اور کس قسم کے خواب کوئی ایسا خواب بتائے جو تکمیل تک پہنچاہو؟
خواب ہر کوئی دیکھتا ہے ہر کسی کےخواب ہوتے ہیں۔میرا جو خواب ہے وہ بلوچستان ہے بلوچستان کےلوگ ہے جن کے لیے میں کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ تاکہ بلوچستان میں بسنے والی خواتین کو ایک سپورٹ ملی رہے تاکہ کبھی بھی یہ اپنے آپکو اکیلا اور تنہا محسوس نہ کریں۔
بلوچستان کی خواتین کو خود انحصار کرنا چاہتی ہوں اور ایک خواہش خواب ہے کہ بلوچستان میں خواتین کےلیے ایک فیکٹری ہونی چاہیےجہاں پر سکون سےمل جل کرخواتین اپنا کام کریں میں اس پر کام کررہی ہوں۔
بلوچستان کی خاتون تعلیم ہنر قابلیت میں کسی سے کم نہیں لیکن آزادی نہ ملنے کی وجہ سے وہ کام نہیں کرپاتی ہے آپ اب بھی گوادر کی لڑکیاں دیکھیں شعور اور تعلیم میں سب سے آگے ہیں مختلف شعبہ ء زندگی میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
چہرہ ڈیجیٹل:ہمارے معاشرے کی خواتین کہاں کھڑی ہیں ترقی کے اس دوڑ میں خاص طور پر ہمارے بلوچستان کی خواتین اور ان میں بھی بلوچ خواتین کو کیا مقام حاصل ہے؟
بلوچستان کی خواتین کا سب
سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہ دبائو کا شکارہے اور انہیں شخصی آزادی حاصل نہیں ہے۔ وہ
اپنے گھر میں بھی اپنی رائے پیش نہیں
کرسکتی۔ اس طرح انکی شخصیت اعتماد کھو
دیتی وہ کچھ کرنا کا صرف سوچتی رہتی ہےپھر کئی خواتین گھر میں لڑ جھگڑ کا اس کا
اثر نکالتی رہتی ہے۔
چہر ڈیجیٹل؟ اس وقت آپ کیا سمجھتی ہے بلوچستان کی خواتین کے اصل مسائل کیاہے؟
بلوچستان کی خاتون تعلیم ہنر قابلیت میں کسی سے کم نہیں لیکن آزادی نہ ملنے کی وجہ سے وہ کام نہیں کرپاتی ہے آپ اب بھی گوادر کی لڑکیاں دیکھیں شعور اور تعلیم میں سب سے آگے ہیں مختلف شعبہ ء زندگی میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
چہرہ ڈیجیٹل:ہمارے معاشرے کی خواتین کہاں کھڑی ہیں ترقی کے اس دوڑ میں خاص طور پر ہمارے بلوچستان کی خواتین اور ان میں بھی بلوچ خواتین کو کیا مقام حاصل ہے؟
بلوچستان کی خواتین کا سب
سے بڑا مسئلہ ہے کہ یہ دبائو کا شکارہے اور انہیں شخصی آزادی حاصل نہیں ہے۔ وہ
اپنے گھر میں بھی اپنی رائے پیش نہیں
کرسکتی۔ اس طرح انکی شخصیت اعتماد کھو
دیتی وہ کچھ کرنا کا صرف سوچتی رہتی ہےپھر کئی خواتین گھر میں لڑ جھگڑ کا اس کا
اثر نکالتی رہتی ہے۔
چہرہ ڈیجیٹل: بلوچستان اب بھی رکا رکا نظر آتاہے اس کی ترقی ملک کےدیگر صوبوں کی طر ح نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
پاکستان کی خواتین ترقی کررہی ہے سوشل میڈیا کےذریعے سب پتا چل رہاہے۔ بلوچستان سے بھی خواتین ترقی کررہی ہےعائشہ زہری ہوگئیں ندا کاظمی دیکھ لیں، مس فاطمہ بتول یہ سب سی ایس ایس آفسرز ہیں۔ ہماری خواتین کورہنمائی کی ضرورت ہے وہ سب سے بہتر ہیں۔
چہرہ ڈیجیٹل؟ بلوچستان کے بنیادی مسائل کیا ہے جن کےلیے آپ خود کام کرنا چاہتی ہے؟
یوں تو بلوچستان کے بہت ذیادہ مسائل ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ گیس ہے سوئی بھی ہمارے صوبے میں ہے لیکن وہ گیس اب بھی بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں تک پہنچ نہیں پائی ہے بلوچستان کے بچوں کو دیگر مواقع نہیں ہے یہاں یونیورسٹیز کی تعداد کم ہے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے مین سٹی میں گھروں میں بجلی فراہم نہیں سڑکوں کی صورتحال ہمارے گھر کے آگے سڑک اب تک نہیں بنی ۔ روز خواتین کا وہاں سے گزر ہوتا ہے دھول مٹی سے برا حال ہوجاتاہے، بنیادی سہولیات سے علاقے محروم ہیں۔
چہرہ ڈیجیٹل: بلوچستان کی پس ماندگی کی وجہ کس کو قرار دے گی ؟
سرداری نظام کے میں بلکل خلاف ہوں میں فارن میں رہی ہوں میں ووٹ نہیں کروگی ہمارے حکمران کام نہیں کررہے ہیں ہر چیز میرٹ پر ہونی چاہیے ہر چیز پسند نہ پسند پر دی جاتی ہے قابل ہنر مند ذہین لوگ آگے نہیں بڑھتے ۔ یہاں قابل لوگوں کو نظٖر انداز کیا جاتاہے فنڈز کو بہتر انداز میں استعمال نہیں کیا جاتاہے بنی ہوئی سڑکوں کو دوبارہ تعمیر کیا جاتاہے بہترتعلیم نہیں دے پارہے ہیں کتنے لوگ
بلوچستان کے ہیں جو اسکالر شپ
پر پڑھنے جاتے ہیں کوئی سوال اٹھانے والا نہیں ہے۔
پرائیوٹ امتحان دونگی اگر اس کام سے کبھی تھوڑا وقت ملا تو مقابلے کےامتحان میں شریک ہونگی ۔
چہرہ ڈیجیٹل: کوئی پیغام جو آج کی خواتین کو دینا چاہیے؟
یوتھ کو پیغام دینا چاہتی ہوں اپنے آپ کو کام میں لگائے جس چیز میں بھی آپ کی دلچسپی ہو وہ کام کرے فارغ نہ بیٹھے یہ عمل انسان کو نقصان پہنچاتا ہے حکومت کو بھی انہیں مواقع فراہم کرنے چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو کام میں لگائے فارغ نسلیں تباہ ہوجاتی ہے وہ غلط راہوں پر نکل جاتی ہیں اگر یہ کام کرےگی تو علاقہ شہر صوبہ ملک ترقی کرےگا ایک بہتر خوبصورت معاشرہ تشکیل پائے گا جس میں سب کو آزادی کے ساتھ اعتماد کے ساتھ سانس لینے کا سب کو حق حاصل ہوگا۔