کراچی میں نوجوانوں کے عید شاپنگ سیز ن کا آغاز ہوگیا۔
نوجوان کہتے ہیں نماز عید کی ادائیگی کے لئے دیدہ زیب لباس پہننے کے چاہ
انہیں مارکیٹ کھینچ لائی ہے ۔
ہر ایک کو من پسند اور اسٹائلش کپڑے کی تلاش ہے
تاکہ عید پر اسمارٹ نظر آسکے۔
دکاندار بھی کاروبار اچھا چلنے پر مطمئن نظر آتے ہیں۔
عید پر منفرد نظر آنا ہے تو لباس عمدہ سلوانا
ہے ۔
۔۔عید کی تیاریاں ابھی سے زور پکڑتی جارہی ہیں۔
نماز عید پر من پسند کرتاشلوار پہننے اور درزی
کے نخروں سے بچنے کےلئےکراچی والے کپڑے کی
خریداری میں مصروف ہوگئے ہیں۔
نوجوان کہتے ہیں کہ ریڈی میڈ ملنے والے
ملبوسات کا معیار اچھا نہیں ہوتا اور نہ ہی ٹھیک سائزمل پاتا ہے،
اس ہی لئے کپڑا خرید کر اپنی مرضی کے مطابق سلوانے کوترجیح دیتے ہیں ۔
خریدار،تین سوٹ خریدلیےہیں۔
۔۔اگر ریٹ اچھے لگے تو دوبارہ بھی
دکان پرآئیں گے۔
خریدار،اپنی پسند کے مطابق سوٹ سل جاتاہے۔
ریڈی میڈ میں
فٹنگ کامسئلہ ہوتاہے۔
اس میں اپنی پسند کی چیزبن جاتی ہے۔
خریدار،میں اپنےشوہرکےلیےخریداری کرنےکےلیےآئی
ہوں۔۔۔یہ کچھ قیمت میں زیادہ ہوتاہےلیکن چل کافی عرصہ جاتاہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ ماہ صیام کے آغاز کے
بعد سے کاروبار میں تیزی آگئی ہے۔
نوجوان اس سال شوخ کلر اور ڈیزائن والے کرتے زیادہ پسند کر رہے ہیں۔
دکاندار کہتے ہیں کہ اب سیزن شروع ہوگیاہے ۔۔۔خریدارآتےجارہےہیں۔۔۔ماشاء اللہ خریدارآتےجارہےہیں۔۔۔یہ خریداراورفروخت کرنےوالوں کے دن ہیں۔۔۔
دکاندار،گرمی کا موسم ہے ،کرتے اور کاٹن کے سوٹ
زیادہ چلتے ہیں ۔۔۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کپڑا خرید کر سلوانا جیب
پر بھاری پڑتا ہے مگر اس کے باوجود عید کی تیاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا
جاسکتا۔ ۔