کراچی میں رواں سال ڈاکووں نے دوران واردات سوسےزائدشہریوں کی جان لے لی۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں رواں سال ڈاکووں نے دوران واردات سوسےزائدشہریوں  کی جان لے لی۔

 

کراچی میں رواں سال ڈاکووں نے دوران واردات سوسےزائدشہریوں  کی جان لے لی۔

ڈاکووں کاہدف بننےوالےشہریوں میں بیس سےزائدنوجوان شامل ہیں۔

تین نوجوانوں کوباپ   اورایک شہری کوماں کےسامنے قتل  کردیا گیا۔

 نوماہ کی کمسن بچی بھی ماں کی گودمیں ڈاکووں کی گولی کانشانہ بنی۔

مسجد  اورعالم دین بھی رواں سال  ڈاکووں کی فائرنگ سے جان گنوا بیٹھے۔

سال 2022 میں بھی   ڈاکو ۔۔۔  کراچی میں بلاخوف و خطر وارداتیں کرتے رہے۔

غیرسرکاری ریکارڈکےمطابق سوسےزائد شہری ڈاکووں کی  فائرنگ سے  جان گنوا بیٹھے۔

ڈاکووں کاہدف بننےوالےشہریوں میں بیس سےزائدنوجوان،نوماہ کی کمسن بچی ، امام مسجد اورمفتی بھی شامل ہیں۔مقتولیں میں سےتین نوجوانوں کوباپ کےسامنے قتل کیا گیا۔ایک شہری نےماں کی نظروں کےسامنےجان گنوائی۔ڈاکووں کاہدف بننےوالےنوجوانوں میں جمشیدروڈپردولہاہ شاہ رخ،جوہرکارہائشی احمد،نارتھ کراچی میں اسامہ،لانڈھی کاطالب علم عثمان سلیم بھی شامل ہیں۔سرسیدمیں قتل ہونے والانبیل،پاپوش میں فوڈدیلوری بوائےسعیداحمد،گلشن معمارمیں قتل ہونےوالالیاری کارہائشی سنی بھی ڈاکوو ں کی گولی کا نشانہ بنا۔

مچھرکالونی میں دس سالہ نبی عالم اورسولہ سالہ نورافسر،سہراب گوٹھ میں جنید،گلشن معمارمیں شہاب بہادر،کورنگی میں درازکےرائڈرکوبھی ڈاکووں نےقتل کیا۔کورنگی اوراورنگی ٹائون میں نوجوان طلحہ اورعبدلحسیب،لیاقت آبادمیں مزمل،جبکہ شاہراہ فیصل پرفزیوتھراپسٹ کامران اورگلستان جوہرمیں کڈنی سینٹرکےمینیجرذیشان کوڈاکووں نےقتل کیا۔

شہر میں گولیاں برساتے ڈاکووں نے یکم ستمبرکوکورنگی میں مفتی محمدصالح اورمنگھوپیرمیں مسجدکےامام کی جان   لے لی۔۔۔