اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ کی خواتین سراپا احتجاج


اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ کی خواتین سراپا احتجاج

شعور کی شمعیں جل اٹھی ہیں 


ہوا کی  بیٹی انصاف کی متقاضی ہے


خواتین نےہاتھوں میں پلے کارڈٖز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔


جن پر ظلم ذیادتی اور بڑھتے قتل کے واقعات کے خلاف  نعرے درج تھے۔

خواتین نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا۔


حکومت وقت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا



مردوں کے اس معاشرے میں آج بھی ہوا کی بیٹی غیر محفوظ ہے

انصاف کے لیے در در کی ٹھوکرے کھانے پر مجبور ہے


کون انصاف دے گا کون انہیں تحفظ فراہم کرےگا ؟

خواتین کا کہناہے کہ عورتوں کے قتل کا مقدمہ درج ہوتاہے لیکن عدالت سے قتل باعزت بری ہوجاتاہے  

گناہ کو گناہ غلط کو غلط کہا جانا چاہے



عورتیں اب بول پڑی ہے


تربیت لڑکی کی نہیں بلکہ لڑکوں کی کرنی چاہیے



 انسانیت مساوی حقوق سے معاشرہ پروان چڑھ سکتاہے


اسلامی معاشرے میں یہ کیسا بگاڑ پیدا ہواہے

انکی آوازیں اب دنیا کے ہر کونے کونے تک پہنچ رہی ہے


ہماری خواتین کو ہم تحفظ نہیں دینگے تو بھلا کون دے


آج کی عورت اتنی کمزور نہیں جتنا معاشرہ گندگی کا شکار ہوتا جارہاہے






یہ تصاویر ہمارے معاشرےکی بے حسی کی عکاسی کرتی ہیں۔