آٹے کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے۔

عرفان علی عرفان علی

 آٹے  کی قیمت  آسمان سے باتیں  کررہی ہے۔

زرعی ملک کہلانے والا پاکستان،، جہاں کے سب سے بڑے شہر کراچی میں  سستے آٹے کے حصول  کےلئے شہری   گھنٹوں انتظار اور  دھکے کھانے پر  مجبور ہیں۔ شہر میں سستے آٹے کی فراہمی میں سخت بدنظمی دیکھی جارہی ہے۔  شہری صبح سویرے آٹے کے حصول  کے لئے لائنوں میں کھڑے  ہوجاتےہیں۔

صرف دو وقت کی روٹی کے لئے سستا آٹا مل جائے۔

طویل قطار یں کھڑی  یہ خواتین اور بزرگ محض   دس کلورعایتی   آٹے کا تھیلہ حاصل کرنے کے لئے یہ تکلیف سہنے پر مجبور ہیں۔

زرعی ملک میں گندم کی کمی ہے یاذخیرہ اندوزوں کی  کارستانی،،، آٹے  کی قیمت  آسمان سے باتیں  کررہی ہے۔

 مہنگائی کے ستائے شہری صبح سویرے  رعایتی قیمت پر دس کلو آٹے کے حصول  کے لئے لمبی قطاروں میں کھڑے  ہوجاتے ہیں۔

ہم اتحاد ٹاون سے آئے ہیں ،یہاں سے رکشہ تیرہ سو روپے کرایہ مانگ رہا ہے، اس سے فائدہ کیا ہے، وہاں سے چودہ سو سے پندرہ سو تک ایک توڑا مل جاتا ہے، بچوں کو پڑھائے یا کھانا کھلائیں،اللہ تعالی ان کو ایسا عذاب دے جیسے ہم مسلمانوں کو عذاب میں ڈال دیا ہے 

شہر میں  دکانوں پر دس کلو آٹا چودہ سو سے سولہ سو روپے میں دستیاب ہے  جبکہ سندھ حکومت   دس کلو آٹاچھ سو پچاس روپے میں فراہم کررہی ہے۔،، لیکن اس   کا حصول کسی امتحان سے کم نہیں۔

دس کلو میں بہت مسائل ہیں، ساڑھے چھ سو روپے میں نکلا ہے، اس پر عوام تھوڑا گزارا کررہیں ہیں،باقی جو دوسرا دس کلو آٹا ہے وہ پندرہ سو ،سولہ سو پر پہنچ گیا ہے، عوام بہت پریشان ہے

آٹا دکانوں پر مل جائے تو کون لائن لگائے گا، کون مرے گا، اتنی پریشانی کرکے رکھی ہے، آٹے کیلئے اتنی ہریشانی، گھی اتنا مہنگا کرکے رکھا ہوا ہے غریب آدمی تو اس وقت مر گیا ہے

شہریوں کا کہنا ہے کہ  لمبی قطاروں میں سستا  آٹے  فراہم کرنے کے  بجائے حکومت  آٹا مافیا  کے خلاف کارروائی کرے  تاکہ  آٹے کی قیمت میں  کمی واقع ہو۔۔