پولیس کی پھرتیاں ۔۔

عرفان علی عرفان علی

پولیس کی پھرتیاں ۔۔

پولیس کی پھرتیاں ۔۔۔تابڑ توڑ ناکے اورچھاپے  بھی کراچی والوں  کو اسٹریٹ کرمنلز سے چھٹکارہ نہ دلا سکے۔۔۔نئے سال کے پہلےمہینے میں ڈاکؤوں نے 12افراد قتل  کئے 62 کو زخمی کردیا۔۔۔اسٹریٹ کرائم کی چھ ہزار سات سو سے زائد وارادتیں کیں۔جنوری 2022 کی نسبت کار لفٹنگ کے واقعات بھی بڑھ گئے۔


سال بدلا مگر کراچی کا حال نہ بدلا ۔۔۔پولیس چیف کے بلند و بانگ دعوووں کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال بہتر نہ ہوسکی۔


سال دو ہزار تئیس کے پہلے مہینے میں بھی صورتحال گذشتہ برس کے آغاز سے مختلف نہ رہی۔ریکارڈ بتاتا  ہے کہ جنوری 2022 میں شہر میں دندناتے اسٹریٹ کرمنلز نے 11افراد کی جان لی تھی جبکہ رواں سال کے ابتدائی مہینے میں 12 افراد ڈاکؤوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بنے۔، جنوری 2023 میں اسٹریٹ کرمنلز   نے 62افراد کو گولیاں مار کر زخمی بھی کیا ہے


  یہی نہیں، چوری اور لوٹ مار  کے واقعات  کی تعداد بھی گذشتہ سال سے زیادہ مختلف نہیں،سی پی ایل سی ذرائع کے مطابق جنوری 2023 کے 30روز میں کراچی والوں نے اسٹریٹ کرائم کی مجموعی طور پر6ہزار 7سو17 وارداتیں  رپورٹ کیں۔موبائل فونز چھیننے کی2ہزار 205،موٹرسائیکل چھیننے کی 385 جبکہ گاڑی چھیننے کی 11وارداتیں سامنے آئیں ،اسی ماہ شہریوں کی201 گاڑیاں جبکہ 3ہزار 915موٹرسائیکلیں چوریہ بھی ہوئیں۔


سال دوہزار بائیس کے پہلے مہینے میں  بھی کراچی والوں کو200گاڑیوں،4ہزار 327 موٹرسائیکلوں اور 2ہزار 499موبائل فونز سے محروم کیا گیا تھا ۔۔۔دوسری جانب پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ جنوری 2023 کے دوران متحرک پولیسنگ کے باعث ایک سو پولیس مقابلے ہوئے جن میں 6ملزم ہلاک جبکہ 128زخمی حالت میں گرفتار ہوئے ،پولیس نے 705اسٹریٹ کرمنلز کو گرفتار بھی کیا جن کے قبضے سے مختلف اقسام کے 666ہتھیار برآمد کئے گئے۔