بارکھان واقعہ سفاکیت یا پھر سازش

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

بارکھان واقعہ سفاکیت یا پھر سازش

بارکھان واقعہ

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کےضلع بارکھان کےحاجی گوٹھ میں ویران کنویں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے نے بلوچستان میں ایک نئی تحریک کو جنم دے دیا ہے۔


واقعہ اتنا دلخراش تھا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر عوام اپنے غصے کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔

 وہ مقام  جہاں سے لاشیں ملی

واقعے کے خلاف احتجاج

 واقعے پر کوئٹہ میں غم اور  غصے کی لہر


خاتون کا ویڈیو بیان اور ہل چل

رواں سال کے ماہ فروری میں دے گئے ویڈیو بیان نے سب کو حیران کردیا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ گراں ناز نامی خاتون کلام پاک ہاتھوں میں اٹھائے دہائیاں دے رہی ہے۔ویڈیو بیان کے مطابق انکے چھ بچے اور ایک بیٹی سردار عبدالرحمان کھیتران کے نجی جیل میں قید ہے انہیں رہایا کرایا جائے۔ویڈیو میں مبینہ الزام لگایا گیاہے کہ ہمیں قیدرکھاگیا اور میری بیٹی کے ساتھ روزذیادتی کی جاتی ہے۔




پولیس بے بس

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ماں اور  تین بیٹوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے  فائرنگ کے بعد خاتون کے چہرےپر تیزاب بھی پھینکاگیاہے۔

واقعے کا پس منظر

واقعے کے پس منظر کے بارے میں علاقہ مکین بتاتے ہیں کہ گراں ناز خاتون کے شوہر  خان محمد مری نے 2019 میں سردار عبدالرحمان کھیتران کے مظالم کے خلاف لب کشائی کی تھی جس پر سردار عبدالرحمان نے انتقامی کارروائی کی اور خان محمد مری رپورش ہوگیا سردار عبدالرحمان  کھیتران نے خان محمد مری کے چھ بیٹوں اور بیٹی کو اغوا کرکے نجی جیل میں منتقل کردیا ۔کنویں سے لاشیں ملنے کے واقعے کے بعد خان محمد مری نے بتایاکہ کنویں سے ملنے والی لاشیں انکی اہلیہ اور بیٹوں کی ہیں تاحال انکے چار بیٹے اور ایک بیٹی عبدالرحمان کھیتران کی قید میں ہیں۔

واقعے کی تاحال ایف آئی آر درج نہ ہوسکی نہ ہی کوئی میڈیکل رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ مری قبائل نے نماز جنازہ ادار کرنے کے بعد لاشیں کوئٹہ روانہ کردی ۔

لاشوں کے ہمراہ احتجاج

لاشیں کوئٹہ پہنچتی ہی احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی ۔  شہریوں نے اس واقعے پر پرزورمذمت کی اور احتجاجی کیا مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی جائے۔

سانحہ بارکھان واقعہ کے خلاف احتجاج پر بیٹھے ہوئے مری قبائل کے ساتھ بحیثیت بلوچ اظہار یکجیتی کے طور پر خان آف قلات کے برادر سینٹر پرنس محمد عمر احمد زئی ۔ سردار نور احمد بنگلزئی ، سردار علی حیدر محمد حسنی ، سردار سخی جان سمالانی ، اور سردار پرکانی نےدھرنا شرکاء سے ملاقات  کی ۔ اور واقعے سے متعلق بات چیت کی ۔

کوئٹہ پولیس صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ

کوئٹہ میں پولیس نے گزشتہ روز  صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی

پولیس کی بھاری نفری کوئٹہ میں صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران کے گھر میں داخل ہوئی۔ اور گھر کے مختلف حصوں کی تلاشی لی گئی ۔ پولیس کی بھاری نفری عبدالرحمٰن کھیتران کے گھر کو جانے والے  راستے پر موجود رہی۔



کوئٹہ میں عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر پولیس کا چھاپہ


بارکھان واقعہ سفاکیت یا پھر سازش

بلوچستان کے معروف سردار عبدالرحمان کھیتران نے بیٹے پر سازش کا الزام لگا دیا

بارکھان کے سردار اور بلوچستان کے وزیر مواصلات عبدالرحمان کھیتران نے بارکھان واقعے کو مسترد کردیا تمام الزامات کو  جھوٹے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ۔

اپنے بیٹے انعام شاہ پر سازش کا الزام عائد کیاہے۔سردار عبدالرحمان کھیتران نے تین افراد کے قتل اور نجی جیل قائم کے الزام کو یکسر مسترد کردیاہے۔ کہتےہیں کہ اس طرح کے الزمات مجھ سے منسوب کرنا اصل میں میری ساکھ کو متاثر کرنا کی ایک سازش ہے۔

کچھ عناصر مجھ سے سیاست کا حق چھیننا چاہتے ہیں اس لیے میرے علاقے میں حالات خراب کرنا چاہ رہےہیں۔ میرے بیٹے انعام شاہ نے خاتون سے ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا اور میرے خلاف سازش کے تانے بانے بنے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ علاقے کا جلد سردار بن جائے۔

سردار عبدالرحمان کھیتران نےکہاکہ تمام تحقیقات کے لیے تیار ہوں لیکن مستعفی نہیں ہوگا بدنام کرنے کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کرونگا۔