ڈاکٹر سیمی جمالی طویل عرصے طب کے شعبے سے وابستہ رہیں۔
مختلف ادوار میں ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔
کہا ڈاکٹر سیمی جمالی نڈر اور بے باک خاتون تھیں۔
طب کے شعبے کے لیے ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔
ڈاکٹر سیمی جمالی 1988 میں جناح اسپتال کا حصہ بنیں۔ 1995
میں جناح اسپتال کی ایمرجنسی کا چارج سنبھالا۔ اسپتال میں وہ ادوار بھی دیکھے جب دھماکوں کے بعد ایمرجنسی مریضوں کو لایا جاتا تھا۔
خود جناح اسپتال میں دھماکے کا دور بھی دیکھا۔ ڈاکٹر سیمی جمالی کے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس ان کے انتقال پر افسردہ ہیں۔
پاکستان پیڈیارٹک ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اقبال میمن کا کہنا تھا کہ سیمی جمالی کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔
ایک ان میں خصوصیت تھی کہ استاد ہونے کے ناطے کھڑی ہوکر مجھے راستے میں ملتی تھیں۔ ایک استاد کی عزت ہوتی ہے
ڈاکٹر سیمی جمالی کے دور میں بطور پولیس سرجن خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر کلیم شیخ کا کہنا تھا کہ سیمی جمالی دوران تفتیش ہر ممکن تعاون فراہم کرتی تھیں۔
ڈاکٹر اقبال آفریدی نے بھی خدمات کو سراہا۔
ڈاکٹر سیمی جمالی کے ہمراہ مختلف ایونٹس کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ سیمی جمالی بہادر خاتون تھیں۔
ڈاکٹرز اور صحافیوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ شاید ہی کبھی پر ہوسکے۔