کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں پیٹرول پمپ دھماکے میں بلدیہ اتحاد ٹاون کا رہائشی موٹر سائیکل مکینک سفیر احمد بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا

عرفان علی عرفان علی

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں پیٹرول پمپ دھماکے میں بلدیہ اتحاد ٹاون کا رہائشی موٹر سائیکل مکینک سفیر احمد بھی اپنی  جان سے ہاتھ دھو بیٹھا

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں پیٹرول پمپ دھماکے میں بلدیہ اتحاد ٹاون کا رہائشی موٹر سائیکل مکینک سفیر احمد بھی اپنی  جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ والد کہتے ہیں بہن کو جمشید روڑ لینے جارہا تھا،، واپس نہیں لوٹا۔

اپنی اولادکوگود میں کھلانے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سفیر بہن کو لینے گھر سے نکلا  مگر  لوٹ  کر نہ آیا۔

نارتھ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب پیٹرول پمپ دھماکے میں جہاں دیگر قیمتی جانوں کا  زیاں  ہوا،، وہی بلدیہ اتحاد ٹاون کی بستی محمد خان کالونی کا رہائشی بتیس سالہ سفیر احمد بھی جاںبحق ہوگیا۔ سفیر کے والد کہتے ہیں کہ انتظامیہ کا کہنا ہے گیس سلینڈر پھٹے۔ اگر سی این جی بند تھی تو گیس پریشر کیسے بڑھا ۔بیٹے کو  شیشے کے ٹکڑے لگے جس سے موت واقع ہوئی۔

 آدھی انچ شیشہ کبھی  نہیں ٹوٹتا بجلی  کا  سرکٹ شارٹ  ہونے سے، یہ اندر ہوئی سلینڈر پھٹا ہے،اس کے پھٹنے کی وجہ سے یہ سارا  نقصان ہوا ہے، جو کچھ  بھی ہوا ہے، چار اموات جو ہوئی ہیں،یہ اس کی وجہ سےہوئی   ہیں

سفیر احمد  کا بھائی قدیر بھی بھائی کی موت پر شدت غم سے نڈھال   تھا۔ کہتا ہے کہ  اسپتال میں بھائی کو فوری طبی امداد نہیں ملی۔

 یہ سب کاغذی  کارروائی پر لگے ہوئے تھے، بس کاغذ اٹھائے ہوئے تھے، کوئی کیا کررہا ہے، کوئی کیا کررہا ہے،بول رہے  تھےیہاں ٹانکے لگادو، سر یہاں سے پھٹا ہوا تھا، پیچھے کان والی جگہ سے پھٹا ہوا تھا، پیچھے سر پھٹا ہوا تھا،  بول رہے تھے   ان کا خون روک دو، بول رہے تھے اس کا خون نہیں رکے گا، یہ شہید ہے شہادت پاگیا ہے، بس اور کچھ نہیں بول سکتا

سفیر کے ماموں  نے واقعے کو  پمپ انتظامیہ کی غفلت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامات ٹھیک نہیں تھے جس کے باعث  واقعہ پیش آیا۔

یہ حادثہ جو پیش آیا ہے، یہ  پیٹرول پمپ انتظامیہ کی  نااہلی  کی وجہ سے ہوا ہے، اور ان کی کنجوسی کی وجہ سے ہوا ہے، ان  لوگوں نے اپنے  آلات اور اپنا جو سامان  ہے وہ انہوں نے چیک نہیں کیا، نہ ہی انہوں نے اپنے سلینڈر چیک کرائے، نہ ہی انہوں نے کسی ہدایت نامے پر عمل کیا ہے

سفیر احمد کی شادی کو ساڑھے تین سال گزرے تھے پہلی بیٹی پیدائش کے وقت  انتقال کرگئی جبکہ دوسرے بچے کی خوشخبری تھی،، لیکن وہ  باپ بننے کی خوشی دیکھنے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہوگیا ۔