پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ، سابق وزیراعظم ،قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آج چھیالیس ویں برسی عقیدت و احترام اور جوش جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے

عرفان علی عرفان علی

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ، سابق وزیراعظم ،قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آج چھیالیس ویں برسی عقیدت و احترام اور جوش جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ، سابق وزیراعظم ،قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آج چھیالیس ویں برسی عقیدت و احترام اور جوش جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔گڑھی خدا بخش میں برسی کےموقع پرجلسہ عام منعقدکیاجائےگا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کی کرشماتی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں سر شاہ نواز بھٹو کے ہاں پیدا ہوئے۔

لاڑکانہ سے ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ ،کیلی فورنیا، برکلے یونیورسٹی سےحاصل کی۔انھوں نے لنکن ان سے بیریسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

بھٹو نے لاڑکانہ سے ہی سیاست کا آغاز کیا۔

صدر جنرل ایوب خان دورمیں وزیر خارجہ رہے۔

جب 1965 میں پاک بھارت جنگ کے دوران کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا دستاویزات پھاڑ کر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔


صدر ایوب سے اختلافات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔

بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ اسلامی سوشلزم کا نعرہ دے کرکامیابیاں حاصل کیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ملکی ترقی میں اہم کارنامے سر انجام دیئے۔

پاکستان کوایٹمی قوت بنانےکاسفرشروع کیا۔

پاکستان اسٹیل ملز قائم کیا۔

اسلامی دنیا سے تعلقات استوار کرتے ہوئے 1974 کو لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ 

۔1977 کے متنازع انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے واضح اکثریت حاصل کرلی تھی۔

البتہ پاکستان قومی اتحاد نے دھاندلیوں کے خلاف تحریک چلائی ، نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں 5 جولائی 1977 کو مارشل لا نافذ کردیا گیا۔

فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے آئین معطل کرکے ملکی اقتدار پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

ان پر محمد احمد رضا قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور بھٹو کو سزائے موت سنائی گئی۔

۔ 4 اپریل 1979 کو ملک کے مقبول ترین عوامی رہنما کو تختہ دار پر لٹکایا گیا، انہیں لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔