کراچی میں بڑھتی لوٹ مار کی وارداتوں پر قابو نہ پایا جاسکا ،
منگل کی شب ناردرن بائی پاس پر ہونے والے نوجوان کا قتل مبینہ ڈکیتی مزاحمت کا نتیجہ نکلا،ورثاء نے واقعے کے خلاف سپر ہائی وے پر احتجاج کیا ،مقدمہ بھی درج کرادیا
کراچی میں رواں سال دوران لوٹ مار قتل ہونے والوں کی تعداد 64 تک جا پہنچی ،منگل کی شب ناردرن بائی پاس کے قریب نوجوان کے قتل کا مقدمہ بھی لواحقین نے ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کی دفعہ کے تحت درج کرادیا ،
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ مقتول نوجوان شفیق احمد دوست کو صفورا گوٹھ چھوڑ کر واپس گھر کی جانب آرہا تھا کہ راستے میں بائیک نہ روکنے پر ڈاکؤوں نے قتل کیا اور فرار ہوگئے ،
نوجوان کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری پر ورثاء نے سپر ہائی وے پر میت رکھ کر احتجاج بھی کیا تھا، جاں بحق نوجوان پیشے سے کارپینٹر تھا اور آبائی تعلق جیکب آباد سے تھا۔