اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ نے کہاہےکہ یونان میں ڈوبنے والی کشتی میں 700کے قریب افراد سوار تھے۔ رانا ثناء اللہ

عرفان علی عرفان علی

 اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ نے کہاہےکہ یونان میں ڈوبنے والی کشتی میں 700کے قریب  افراد سوار تھے۔  رانا ثناء اللہ

 اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ نے کہاہےکہ یونان  میں ڈوبنے والی کشتی میں 700کے قریب  افراد سوار تھے۔

کشتی میں  400افراد کے سوار ہونے کی گنجائش  تھی،

حادثے میں 12پاکستانیوں کو بچایاگیا ہے،

ریسکیوآپریشن کےدوران ابھی تک 82لاشیں نکالی گئیں،

کشتی میں 350کے قریب پاکستانی سوار تھے،

متاثرہ فیملیز سے رابطہ کیا جاچکاہے،ڈی این اے حاصل کرلیے ہیں،

انسانی اسگلنگ میں ملوث افراد کیخلاف ایکشن لیا جائے گا،

281خاندانوں نے ابھی تک رابطہ کیا ہے،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہاکہ

کل بینچ میں شامل سینئر ترین جج نے کہا  میں اس عدالت کو نہیں مانتا،

اگر میں  بات کروں تو توہین عدالت کامرتکب ہوجاوں ،

عدالت کا یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ قانون کے خلاف فیصلہ کرے ،

عدالت نے قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ،

قانون کہتا ہے بینچ سینئر ترین تین ججز بنائیں گے ،

معزز جج کہتے ہیں کہ یہ بینچ قانون کے مطابق سینئر ترین ججز نے نہیں بنایا ، آئین میں کہیں درج نہیں کہ پارلیمنٹ میں ابھی قانون بن رہا ہوں اور اس کے اوپر سٹے دے دیا جائے ،

کسی قانون کومعطل کرنا یا سٹے کر نے کی اجازت آئین کسی عدالت کو نہیں دیتا ،

سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل ہونا چاہیے،

مرضی کے بینچ بناکر مرضی کے فیصلے کرائے جائیں تو فیصلوں میں قوت نہیں ہوتی

الیکشن سے متعلق استدعا کی گئی تھی کہ فل کورٹ بنایا جائے .