نگران وزیراعلیٰ جسٹس باقر کا سکرنڈ واقعہ کی تحقیقات کا حکم
کراچی نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر نے سکرنڈ واقعے پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دے کر انکوائری کا حکم دیتے ہوئے 4 روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو نیو میمن مسجد میں ربیع الاول کے جلوس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے سکرنڈ واقعہ پر دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انھوں نے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز سے ملاقات کے دوران سکرنڈواقعے سے متعلق تفصیلات حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات تکلیف دہ ہیں اور نہیں ہونے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے واقعے کی تین رکنی کمیٹی کو تحقیقات کرکے چار دن میں رپورٹ دینے کا حکم دیا ہے۔
انکوائری کمیٹی کی سربراہی کمشنر حیدرآباد خالد حیدر شاہ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کریں گے۔
جسٹس باقر نے امید ظاہر کی کہ انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کے بعد مظاہرین اپنا دھرنا ختم کر دیں گے۔
خیال رہے کہ جمعرات کو سکرنڈ کے گاؤں ماڑی جلبانی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے آپریشن میں چار دیہاتی مارے گئے تھے۔
ربیع الاول: نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ ربیع الاول ایک عظیم دن ہے اور مذہبی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ربیع الاول کے جلوس کی سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
جسٹس باقر نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس دن پاکستان کی سلامتی اور ترقی کیلئے دعائیں کریں۔ نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر نے مستونگ میں عید میلاد النبی (ص) کے جلوس کے قریب ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم اور متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ نے ہنگو کی دوآبہ مسجد میں ہونے والے دھماکے کی بھی شدید مذمت کی جس میں دو جانیں ضایع ہوئیں۔