کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں پہ تمام کروں،نواز شریف

عمران عمران

 کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں پہ تمام کروں،نواز شریف

 لاہور میں وطن واپسی کے بعد سابق وزیر اعظم رہنما مسلم لیگ ن نواز شریف کا جلسے سے خطاب

قائد مسلم لیگ ن  نوازشریف کا شاعرانہ انداز میں  خطاب کا آغاز

کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں پہ تمام کروں،
وہ میری طرف دیکھے توسلام کروں ، 
آج بھی وہی محبت ہے  ،آپ لوگوں نے مجھے نہیں چھوڑا،
آج کئی سالوں بعد  آپ سے ملاقات ہورہی ہے، 


آپ سے پیار کا رشتہ قائم و دائم ہے جس میں کوئی فرق نہیں آیا ، 
 میرا اور آپ کا یہ  رشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے ، 
نہ آپ نے کبھی دھوکا دیا نہ  نے آ پ کو دھوکادیا ، 
جب بھی موقع ملا خلوص سے آپ کی خد مت کی ، 
جب بھی موقع ملا کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ، 
مجھے ملک بدر کیا گیا  اور جعلی کیسز بنائے گئے ، 
شہباز شریف اور مریم نواز سمیت تمام لوگوں پر کیسز بنائے گئے، 
کیسز بنائے گئے مگر مسلم لیگ ن  کا جھنڈا کسی نے نہیں چھوڑا ،
کون ہیں جو ہر چند سال بعد کو اس کے پیاروں اور قوم سے جدا کر دیتا ہے ، 
ہم تو پاکستان کی تعمیر کرنے والوں میں سے ہیں ، 
ہم نے تو پاکستان کیلئے ایٹم بم بنایا ،
ہم نے تو پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم نہیں کیا ،
ہم نے لوڈشیڈنگ ختم کی ، شروع نہیں کی ، 
لوڈشیڈنگ کا عذاب تھا جسے ہم نے ختم کیا ،
بجلی ہم نے مہنگی نہیں کی بلکہ سستی کی ، 
میں  نے بجلی بنائی اور سستے داموں آپ تک پہنچایا ، 
بجلی بل میں اپنے ساتھ لایا ہوں ،
مجھے پتہ ہے کہ آپ سننا چاہتے ہیں آئی لو یو ٹو
آپ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں بھی اتنی ہی محبت کرتا ہوں
آج آپ کی محبت دیکھ کر میں  دکھ درد بھول گیا ہوں ،
میں یاد بھی نہیں کرنا چاہتا مگر کچھ ایسے دکھ ہوتے ہیں جو انسان بھلا نہیں سکتا ، 
کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو انسان بھلا نہیں سکتا مگر ایک سائڈ پر کر سکتا ہے ، 
کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے ، 
زندگی میں کاروبار چلا جاتا ہے مگر واپس زندگی میں آ جاتا ہے
 جو زندگی میں آپ کے پیارے جدا ہو جاتے ہیں تو وہ کبھی واپس نہیں آتے، 
پہلے جب گھر جاتاتھا تو والدہ اور بیوی میرا انتظارکرتی تھیں،
میں نے سیاست میں اپنی والدہ اور بی بی کلثوم کو کھو دیا ، 
آج گھر جاوں گا تو کوئی بھی انتظار کرنے والا نہیں ہوگا،
میری والدہ اور بیوی سیاست کی نذر ہوگئیں،یہ بہت بڑا گھاؤ ہے جو بھرے گا نہیں،
مجھے بی بی کلثوم کی موت کی خبر جیل میں ملی ، 
شائد آج وہ جیل سپریڈنٹ سن رہا ہو گا ، 
میں نے جیل سپریٹنڈنٹ کو کہا  میری بات کروا دو مگر اس نے نہ کرائی ،