کراچی پولیس کی جانب سے
شہر کو امن کا گہوارہ بنانے کے دعوے ہوا میں اڑ گئے،’
پولیس ڈاکوئو کی مددگار اور سہولت کار بن گئی،
شہر کے انتہائی حساس مقام پر امریکی قونصل خانے
کے نزدیک ڈاکو دندناتے رہے،
قریب پولیس موبائل کی
موجودگی کے باوجود سنئیر صحافی سمیت شہریوں سے سرعام لوٹ مار کی واردات پولیس کے
لئے شرم کا مقام ہے،
کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن
کے سنئیر ممبر ہم نیوز سے وابستہ ساجد عوان کے ساتھ گزشتہ روز مائی کلاچی روڈ پر
واردات کے دوران قریب کھڑی پولیس موبائل تماشہ دیکھتی رہی،
واردات کے بعد پولیس موبائل کو اطلاع دی گئی تو
اہلکاروں نے سڑک پر سرعام لوٹ مار کرنے والوں کا تعاقب کرکے انہیں گرفتار کرنے کے
بجائے ،
صحافی کو قریبی ہی واقع
ڈاکس تھانے کی چوکی پر اطلاع دینے کا مشورہ دیا جبکہ پولیس چوکی پر تالا لگا ہوا
تھا،،
پولیس مددگار 15 نے بھی
امداد سے انکار کرتے ہوئے تھانے جانے کا مشورہ دیا، واردات کی رپورٹ کے لئے بلآخر
تھانے پہنچنے پر بھی پولیس نے ناروا رویہ اختیار رکھا اعلی حکام کو معاملے سے آگاہ
کیے جانے کے باوجود ڈی آئی جی سائوتھ سمیت دیگر کی خاموشی قابل تشویش ہے،
بڑھتی ہوئی وارداتوں پر کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن
نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے،
سی ار اے حکومت اور پولیس
کے اعلی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ واقعہ کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیا جائے، جب ایک
سنئیر صحافی کے ساتھ پولیس کا ایسا رویہ تھا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام شہری
کے ساتھ پولیس کا کیسا رویہ ہوتا ہوگا،
شہری عدم تحفظ کا شکار
ہوچکے ہیں، لوٹ مار کی مزاحمت پر 119 شہری قتل کر دیے گئے اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں،
بڑھتی ہوئی وارداتوں سے پولیس کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،
دو روز قبل جی این این نیوز کی گاڑی پر ڈاکوئو کی
فائرنگ سے زخمی ہونے والا ڈرائیور آج ذندگی
و موت کی جنگ لڑی رہا ہے، صحافیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی
گرفتاری کے لئے ایڈیشنل آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ کی جانب سے صرف زبانی نوٹس لیے
گئے
لیکن آج تک خاطر خواہ
نتائج سامنے نہیں آسکے، کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن نے پولیس حکام کو متنبہ کیا ہے
کہ اگر معاملات پر سنجیدگی سے فوری ایکشن لیا جائے ورنہ سی آر اے سخت لائحہ عمل
اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے گی،