کراچی
گلستان جوہرمیں ڈاکووں نے نہ رکنے پر
کار سوار بھائیوں پر فائرنگ کردی۔
زخمی چھوٹے
بھائی کو تیزی سے اسپتال لے جاتے ہوئے گاڑی الٹنے سے بڑا بھائی بھی زخمی۔ زخمی بھائی نے بھی دم توڑ دیا۔
واقعہ
کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جاری سال ڈاکووں
کی فائرنگ سے ایک سو اٹھائیس شہری زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔
کراچی میں ڈاکووں نے ایک اور نوجوان کو موت کی نیند سلادیا ۔
صبح سویرے مبینہ طور
پر گلستان جوہر کے قریب گاڑی میں سوار دو بھائیوں
کو ڈاکووں نےروکنےکی کوشش۔
بڑے بھائی نے گاڑی نا روکی،،،، جس پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کی، جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھے چھوٹے بھائی کو لگی۔
بڑے بھائی نے تیزی سے گاڑی اسپتال کی جانب دوڑائی،، جو بے قابو ہوکر جوہر موڑ کے قریب الٹ گئی۔
زخمی چھوٹے بھائی کو
مزید چوٹیں آئیں ،، اور وہ دم توڑ گیا۔
جبکہ حادثے میں بڑا بھائی بھی زخمی ہوگیا۔
مقتول کے والد کا کہنا ہے مرتضی حسین تین بہن بھائیوں میں
دوسرےنمبرپرتھا۔
این ای ڈی یونیورسٹی میں بی ای مکمل کرنےکےبعد
مزید تعلیم حاصل کررہاتھا۔
اور نجی
بینک کےآئی ٹی ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھا۔ اپنےبڑےبھائی کوچھوڑنےگیاتھا ۔
راستےمیں
ملزموں نے مار ڈالا۔
واقعے سے متعلق گلستان جوہر اور شارع فیصل تھانے
کی پولیس حدود کے تنازع میں الجھ گئیں۔
شارع فیصل پولیس کا موقف ہے جس مقام پر گاڑی پر
فائرنگ ہوئی
وہ تھانہ گلستان جوہر کی حدود ہے۔ دوسری جانب
گلستان جوہر پولیس کا کہنا ہے گاڑی جس مقام پر گاڑی الٹی اور نوجوان جاں بحق ہوا
وہ شارع
فیصل تھانے کی حدود ہے۔پولیس نےکاراپنی
تحویل میں لےلی۔
مقتول
کےبڑےبھائی حیدرعلی کی مدعیت میں قتل اورڈکیتی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا
مقتول کی نمازجنازہ مسجدخیرالعمل میں اداکی گئی
اور تدفین سپرہائی وے پر وادی حسین قبرستان میں ہوئی ۔
اس سال
شہر میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک سو اٹھائیس تک پہنچ گئی
ہے۔