نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کہتے ہیں 2007 کی ایمرجنسی کے دور میں وکلاء اورکراچی بار ایسوسی ایشن نے جمہوریت کی بحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا

عرفان علی عرفان علی

 نگراں وزیراعلیٰ سندھ  جسٹس (ر) مقبول باقر کہتے ہیں 2007  کی ایمرجنسی کے دور میں وکلاء اورکراچی بار ایسوسی ایشن نے جمہوریت کی بحالی کے لیے  کلیدی کردار ادا کیا


نگراں وزیراعلیٰ سندھ  جسٹس (ر) مقبول باقر کہتے ہیں 2007  کی ایمرجنسی کے دور میں وکلاء اورکراچی بار ایسوسی ایشن نے جمہوریت کی بحالی کے لیے  کلیدی کردار ادا کیا۔

 جدوجہد کا ثمر 2009  میں ججز  کی بحالی کی صورت میں سامنے آیا۔ آج بھی عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ سندجسٹس (ر) مقبول باقر کا کراچی بار ایسوسی ایشن  کی سالانہ  عشائیہ تقریب سے خطاب  میں کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں اہم مقدمات میں  بنچوں کی تشکیل کا معاملہ سپریم کورٹ میں پولرائزیشن کا باعث بنی ہے۔

 چیف جسٹس آف پاکستان  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پارلیمنٹ  قانون پہ عملدرآمد کرتے ہوئے  سینئر جج صاحبان کی کمیٹی تشکیل دی۔

جو بینچز کی تشکیل  اور کیسز کی  فیکسیشن کے فرائض انجام دے رہی ہے۔

 ہائی کورٹس میں بھی  اس پریکٹس کو اختیار کیاجائے کراچی بار ایسوسی ایشن کے لیے میرے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ  نوجوان وکلاء روزانہ اپنے اسکلز کو بہتر بنانے کی کوشش کریں ۔