اسلام آباد میں سارہ
انعام کے والدین کی ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ
جس وقت سارہ انعام
کا قتل ہوا اس وقت اس گھر میں تین لوگ موجود تھے
ایک سارہ انعام،
شاہنواز امیر اور شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ موجود تھے
شاہنواز امیر نے میری
بیٹی کو بے دردی سے مارا ہے
رات بارہ کے قریب
شاہنواز امیر نے سارہ امیر کو قتل کیا
یہ جھوٹ ہے کہ
شاہنواز امیر کی والدہ کو کچھ پتہ نا ہو کیونکہ رات کو اواز دور دور تک جاتی ہے
میری عدالت سے
گزارش ہے شاہنواز امیر کی والدہ کو سزا ملنی چاہیے
ہمیں اندازہ ہی نہیں
ہے کہ میری بیٹی کے ساتھ ان کا کیا مسئلہ ہوا ہے
شاہنواز امیر کے
بارے میں پتہ چلا ہے کہ اس کی دو شادیاں پہلے سے تھیں۔۔ اور اس کی بیویاں جا چکی ہیں
شاہنواز امیر ایک
پر تشدد شخص ہے
شاہنواز امیر نے میری
بیٹی سے بہت زیادہ پیسے لیے ہیں
پہلے یہ بینک سے پیسے
منگواتے تھے پھر بائی ہینڈ پیسے منگوائے
شاہنواز امیر کا
مقصد صرف اور صرف پیسے بٹورنا تھا
مجرم کو سنائی گئی
سزا سے مطمئن ہوں مگر اسکی والدہ کو بھی تھوڑی بہت سزا ملنی چاہئے تھی
نور مقدم کا کیس
سپریم کورٹ میں ہے چیف جسٹس پاکستان سے درخواست ہے کہ اسکا فیصلہ کریں تاکہ سب کو
انصاف مل سکے
ہم ملزمہ سمینہ
شاہ کے خلاف 109 کا چلان واپس نہیں لے رہے
سارہ انعام قتل کیس
میں ہائیکورٹ کو جائیں گے تو سمینہ شاہ کو بھی سزا ضرور ملے گی
ہمیں پورا شک ہے
کہ سارہ کو قتل کرنے میں سمینہ شاہ نے اپنے بیٹے کی معاونت کی
اللہ کا شکر ہے کہ
مرکزی ملزم کو سزا ملی
میڈیا کا شکریہ
جنہوں نے ہماری اس جدوجہد میں بھر پور ساتھ دیا