شاہ زیب قتل کیس کے سزا یافتہ مجرم شاہ رخ جتوئی کی کئی ماہ سے کراچی کے غیر معروف نجی اسپتال مین موجودگی کا انکشاف
معاملہ سامنے آیا تو ہنگامی بنیادوں پر مجرم
کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا گیا۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات مجرم کی بیماری سے
لاعلم نکلے۔
اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شاہ رخ جتوئی
کمر میں تکلیف کے باعث زیر علاج تھا۔
کراچی میں شاہ زیب قتل کیس کےمرکزی سزا یافتہ
مجرم شاہ رخ جتوئی ایک بار پھر خبرو ں کی
زد میں ۔۔مجرم شاہ رخ جتوئی مبینہ طور پر
8ماہ سے کراچی کے نجی و غیر معروف اسپتال میں ٹھاٹ سے رہ رہا تھا۔۔۔
یہ مناظر کراچی کلفٹن کے قریب واقع اس نجی
اسپتال کے پرائیوٹ وارڈ کے ہیں جس میں مبینہ طور پر بیمار مجرم شاہ رخ جتوئی کو
علاج کی غرض سے لایا گیا تھا۔
آرام دہ صوفہ سیٹ ، فریج اور ایئر کنڈیشن سمیت
دیگر تمام سہولیات سے آراستہ اس کمرے مین مجرم شاہ رخ جتوئی مئی 2021 سے کمر میں
درد کے باعث زیر علاج تھا ۔
اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مجرم شاہ رخ جتوئی کی نگرانی پر چوبیس گھنٹے پولیس
اہلکار مامور تھے،10جنوری کی صبح مجرم کی ہی
اچانک درخواست پر اسے اسپتال سے فارغ کیا گیا
دوسر جانب ڈی آئی جی جیل خانہ جات کراچی ناصر خان نےچہرہ نیوز سے ٹیلیوفونک گفتگو میں بتایا کہ جیل ڈاکٹر کے علاوہ سول اسپتال کے ڈاکٹر نے بھی شاہ رخ جتوئی کو اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تھی،
سرکاری
اسپتال میں علاج کی سہولت دستیاب نہ ہونے پر ہی
قیدی کوپرائیوٹ اسپتال بھیجا جاتا ہے۔
انہوں نے مجرم شاہ رخ جتوئی کو لاحق بیماری سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا،
جیل حکام کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ کی اجازت
اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی
مجرم کو جیل سے علاج کے لئے اسپتال روانہ کیا گیا تھا۔
ذرائع محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو میڈیکل بورڈ کے بغیر اسپتال
منتقل کیا گیا ۔اس حوالے سے محکمہ صحت کو
جیل یا محکمہ داخلہ کا کوئی خط نہیں ملا۔