سپریم کورٹ،پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت

عرفان علی عرفان علی

سپریم کورٹ،پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت

سپریم کورٹ،پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت جاری ہے

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ
امید ہے وقفے کے دوران آپ نے کچھ کھایا ہو گا،


پی ٹی آئی کے   وکیل علی ظفر   کے  سپریم کورٹ میں  دلائل  دیئے کہ
اصل میں الیکشن کا مقام  اسلام آباد تھا لیکن  یہاں ہمیں  کوئی بھی ہال نہیں مل رہا تھا،
کیا آپ کا پشاور میں کوئی آفس ہے ؟ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا

وکیل علی ظفر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ
جی ہمارا پشاور میں ایک آفس ہے،


  سوچا کہ وہاں پشاور میں  ایک گراؤنڈ میں  الیکشن کرائیں، اس کے لئے سیکیورٹی مانگی، 
کیا آپ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے مقام کا بتایا تھا؟ جسٹس محمد علی مظہر کا استفسار
اس کی ضرورت نہیں تھی، الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا، علی ظفر

نے عدالت کو بتایا کہ
اس پر ہم نے آئی جی کو مقام کے بارے میں بتایا تھا،


 اکبر ایس بابر کاغزت نامزدگی لینے آئے لیکن وہ وقت گزرنے کے بعد آئے، 


اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی دفتر میں آمد کے وقت کی تصویر کا بھی ذکر
اکبر ایس بابر نے پینل کے بارے میں نہیں بتایا،

چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ
اگر اکبر ایس بابر اس وقت  آتے تو ہم  الیکشن کرالیتے،وکیل  علی ظفر
کیا ایک شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا؟ یہ کہا لکھا ہے ؟


ایک اکیلا شخص الیکشن نہیں لڑسکتا ،وکیل علی ظفر نے عدالت کو آگاہ کیا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ
کیا الیکشن میں کسی ایک ووٹرنے بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا ؟ 


چونکہ کوئی مدمقابل نہیں تھا، اس لئے ووٹ کاسٹ نہیں ہوئے،وکیل علی ظفر نے عدالت کو آگاہ کیا
سیکریٹری جنرل بھی ایسے آگئے، چیئرمین بھی ایسے  ہی آ گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ
بورڈ بھی ایسے آ گیا،یہ الیکشن تو نہ ہوا، 
یہ الیکشن تو نہ ہوا ، سلیکشن ہو گئی، 
آپ ڈکٹیٹر شپ  کی طرف جا رہے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا علی ظفر سے مکالمہ


علی ظفر کا ن لیگ کے بلامقابلہ انتخابات کا ذکر


بلامقابلہ ہوسکتے ہیں، پارٹیوں کی بڑی بڑی ہستیاں ہیں ہو سکتا ہے وہ بلا مقابلہ آجائیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا 


یہاں تو چھوٹا ممبر بھی بلا مقابلہ بن رہا ہے، 


آپ کھڑے ہوتے تو ہم مان لیتے کہ بندہ کام کررہا ہے پارٹی کیلئے بلامقابلہ آ گیا، 
دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی بلا مقابلہ عہدیدار منتخب ہوئے تھے،وکیل  علی ظفر نے بتایا کہ 


اے این پی کا بھی کوئی ایشو تھا؟ جسٹس مسرت ہلالی


اے این پی کو ابھی الیکشن کمیشن نے جرمانے کیساتھ نشان الاٹ کردیا ، علی ظفر کے دلائل


ملک کون چلائے گا؟ ملک ایک سیاسی جماعت ہی چلائے گی نا،چیف جسٹس
یہ درست ہے کہ پارٹیوں میں بلا مقابلہ انتخاب ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا استفسار 


علی ظفر آپ بھی سینیٹر بنے تھے تو ووٹ تو حاصل کئے ہونگے، 
میں ٹیکنوکریٹ سیٹ پر بلا مقابلہ منتخب ہوا ہوں،وکیل  علی ظفر نے عدالت کو آگاہ کیا 

سماعت جاری