محرومیوں کی چکی

عمران عمران

محرومیوں کی چکی



بےحس لوگوں کے ہجوم کو حق رائے دہی استعمال کرتے  دیکھا۔

 انتخابات  میں چنائو کی کسوٹی قوم،زبان،رنگ،نسل کے علاؤہ  کچھ نہ تھی۔

اب جب یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھے گے تو یقیناً اچھی قانون سازی ،روزگارکےمواقع،صحت کی سہولیات،علاقے میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کے مسائل کا خاتمہ کرےگے۔

سب وہی ہوگا جو پارٹیوں نے الیکشن سے قبل اپنے منشور میں بتایا تھا

میں امید کرتا ہوں اس عام آدمی سے جو،سیاسی،سماجی،ماحولیاتی، دفاعی،معاشی،اوربین الاقوامی معاملات پر بےباک تبصرے بغیرکسی جھجھک اور رکاوٹ کے پبلک ٹرانسپورٹ پر،پیٹرول پمپس پر،راشن کی دکانوں اور ریلوے اور بس اسٹینڈ پر اپنا تجزیہ دیتے تھکتا نہیں کے اس کے ساتھ ظلم ہورہاہے۔ اس بار خاموش ہوگا۔

 جب پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھے گے پیٹرول کی قیمتوں میں جب اضافہ ہوگا مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آئے گا،بھوک بےبسی لاچاری لاقانونیت ،بےروزگاری بڑھے گی تو یہ اپنے لب سی لیےگے۔

اور فخر سے کہے گا اس لیڈر کا انتخاب میں نے کیا تھا ۔

عام آدمی کے انتخاب کا عمل قابلیت نہیں ذہانت نہیں،حکمت عملی نہیں ، منصوبہ سازی نہیں ۔ص

رف قومیت ہے اور ایسی قوم پھر جمہوریت کے راگ پر پانچ سال محرومیوں کی چکی پیسی گی اور روئے گی چیخے گی ۔