کراچی میں جاری پندھویں لٹریچر فیسٹیول کا آخری روز

صبانور صبانور

کراچی میں جاری پندھویں لٹریچر فیسٹیول کا آخری روز

کراچی میں جاری پندھویں لٹریچر فیسٹیول کا آخری روز، تین روزہ فیسٹیول میں دوسو سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔

تعلیم، ادب، ماحولیاتی آلودگی سمیت مختلف موضاعات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

کراچی کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں مرتضیٰ وہاب نے شکوہ کیا کہ کراچی سب کے لئے ہے لیکن کراچی کے لئے کوئی نہیں۔

سمندر کنارے سجا ادبی میلہ۔۔۔ماضی کے قصے تو کہیں حال کی کہانیاں۔

علم کے خزانے لٹاتے فیسٹیول میں چھٹی کے روزاہلیان کراچی نے جوش وخروش سے حصہ لیا

شہر قائد کی بات کرنے کےلیےمرتضیٰ وہاب بھی فیسٹیول میں پہنچے۔

سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ تعلیم، روزگار کے لئے کراچی آتے ہیں۔

افسوس ناک بات ہے کہ کراچی سب کے لئے پر کراچی کے لئے کوئی نہیں۔

فیسٹیول کے آخری دن بھی دلچسپ مباحثے منعقد ہوئے جس میں کلیم امام، شہاب اوستو، مظہر عباس اور ہما بقائی نے  خیالات کا اظہار کیا کہا  کس طرح معاشرتی طرزحکمرانی کو اخلاقی فریم ورک کے اندر لایا جاسکتا ہے۔

غازی صلاح الدین، جبران ناصر، حارث خلیق اور عافیہ سلام نے انسانی حقوق اور جرائم کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں حصہ لیا۔

کےایل ایف آرگنائزکا کہنا تھا  اس طرح کے ادبی میلے کراچی کی ایک مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔

فیسیٹول کے آخری روزگیارہ کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی ۔

مصنف ڈاکٹرعمران یوسف نے کتاب کی اہمیت  اجاگر کی۔

  ہنسنا منع ہے کہ عنوان سے کامیڈی سیشن کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں بھارت سے آئے سنجے راجور بھی شریک ہوئے۔

زہرہ نگاہ، افتخار عارف، کشور ناہید جیسی ادبی شخصیات کوشاندار خدمات پر شیلڈز سے نوازا گیا۔

ساحل کنارے علم و ادب کی تین روزہ محفل صوفی قوالی ٹائٹ کے ساتھ اختتام پذیرہوگئی۔