ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس ،سپریم کورٹ نے مختصر تحریری رائے جاری کردی

عمران عمران

ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس ،سپریم کورٹ  نے مختصر تحریری رائے جاری  کردی

ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس ،سپریم کورٹ  نے مختصر تحریری رائے جاری  کردی

اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہماری آئینی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ کے مطابق

بدنیتی سے بالاتر ہو کر قانون کے مطابق بلا تفریق فیصلے  کرنا ہماری ذمہ داری ہے،

عدالتی تاریخ میں کچھ ایسے مقدمات بھی ہوئے جس سے عوامی رائے نے جنم لیا،

عوامی رائے نے جنم لیاکہ عدلیہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خوف اور لالچ کا شکار ہے،

ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں کو کھلے دل سے تسلیم کر کے خود احتسابی کرنی ہے،

وقت تک اپنی درستگی کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک غلطیوں کو تسلیم نہ کر لیں،

ریفرنس پیپلز پارٹی دور میں آیا جسے بعد میں آنے والی حکومتوں نے واپس نہیں لیا،

بعد کی حکومتوں کا ریفرنس واپس نہ لینے سے عوام  کی اجتماعی خواہش کی عکاسی ہوتی ہے،

ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں کیس  بنیادی حقوق اور شفاف ٹرائل کے مطابق نہیں چلایا گیا، 

ذوالفقارعلی   بھٹو  کودی گئی سزا کیخلاف نظرثانی اپیل بھی خارج ہو چکی

آئین اور قانون میں ایسا کوئی طریقہ  نہیں جس کے تحت  فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،

فیصلے کا اطلاق سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں پر بطور عدالتی نظیر لازم ہے؟ یہ نقطہ نہیں اٹھایا گیا، 

کیا  سزا دینا عدالتی قتل تھایا  منصفانہ تھا؟ صدارتی ریفرنس میں تیسرا اور پانچواں سوال

عدالت ریفرنس کی بنیاد پر نہ ہی شواہد کا دوبارہ جائزہ لے سکتی ہے اور نہ ہی فیصلہ کالعدم قرار دے سکتی ہے،

شفاف ٹرائل اور قانونی طریقہ کار میں آئینی و قانونی خامیوں کی نشاندہی کریں گے،

سزا دینا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درست تھا؟معاونت فراہم نہیں کی گئی، رائے نہیں دے   سکتے