آزاد کشمیر میں کورونا مثبت کیسز کی شرح چھبیس
فیصد تک پہنچ گئی۔ سندھ میں تیرہ اور کراچی میں تین فیصد کمی کے بعد اکیس فیصد پر
آگئی۔ کراچی میں چھیاسٹھ فیصد کیسز
لاہور،اسلام آباد،پشاور ،راولپنڈی اور حیدرآباد سےآرہے ہیں۔ سندھ حکومت
نے اسپتالوں میں پانچ سو تراسی آکسیجن بیڈز کا اضافہ کیا
جبکہ پانچ سو سینتیس بیڈز این ڈی ایم اے نے فراہم کئے۔
وزیراعلی ٰہاوس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی
شاہ کی میزبانی میں این سی او سی کامشترکہ
اجلاس ہوا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ کورونا کی
چوتھی لہر چھٹے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔
لہر میں کچھ کمی آنا شروع ہوئی
ہے۔آزاد جموں کشمیرمیں کورونا وبا عروج پرہےجہاں پر مثبت کیسز کی شر ح چھبیس فیصد
تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ میں یہ شرح تیرہ فیصد جبکہ کراچی میں تین فیصد کمی کے بعد اکیس فیصد پر آگئی
ہے۔ شہر میں چھیاسٹھ فیصد کیسز لاہور،اسلام آباد،پشاور ،راولپنڈی اور حیدرآباد
سےآرہے ہیں۔ کورونا سےمتاثر پانچ سو مریض
یومیہ اسپتالوں میں داخل ہورہے ہیں۔ کراچی میں
اموات کی شرح بھی بڑھی ہے۔ ملک میں انڈین ڈیلٹا ویرینٹ کی لہرہے،، جو کراچی میں زیادہ ہے ۔ این سی او سی اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ
حکومت نے اکتیس جولائی سےآٹھ اگست تک کوروناپرقابوپانےکےلیےسخت اقدامات کیے۔صوبائی حکومت نے اسپتالوں میں اپنےذرائع سےمزید پانچ
سو تراسی آکسیجن بیڈ لگائےہیں۔ این ڈی ایم
اے نے صوبے کو پانچ سو سینتیس آکسیجن بیڈ
مہیا کئے۔ اس وقت سندھ میں مجموعی طور پر
گیارہ سو بیس آکیسجن بیڈہیں۔