سربراہ
پاک سرزمین پارٹی مصطفٰیٰ کمال نےکہاہےکہ سندھ حکومت کراچی کے مسائل کوحل نہیں کرسکتی۔روزانہ
کی بنیادپراربوں روپےکاپانی چوری ہوتاہے۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا اتنا برا حال
کردیا گیا ہےکہ یہاں امیر اور غریب دونوں پانی
خرید کر پی رہےہیں۔مصطفیٰ کمال نے الزام عائدکیاکہ سندھ میں اردوبولنےوالوں کونوکریاں
نہیں دی گئی ہیں۔
کلفٹن
میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ ریفرنس میں سابق سٹی ناظم مصطفٰی کمال احتساب عدالت
میں پیش ہوئے۔
میڈیاسےگفتگومیں
صوبائی اوروفاقی حکومت کواڑے ہاتھوں لیا۔
بولےحکومت
سندھ نے کراچی کو بس تک نہ دی ،مسائل ہی مسائل
ہیں۔
کراچی
میں روزانہ اربوں روپے کاپانی چوری ہوتاہے۔
مصطفیٰ
کمال،سربراہ پاک سرزمین پارٹی۔ سندھ حکومت نے تیرہ سالوں میں کچھ اچھا نہیں کیا۔سندھ
میں اردو بولنے والوں کو نوکریاں نہیں دی گئی ہیں۔پتا چلا ہے کہ پانچ ہزار کی اسکول
کی بینچ انتیس ہزار روپے میں سندھ حکومت نے
خریدی ہے۔
مصطفیٰ
کمال نےکہاکہ ملک میں مہگانی ہی مہنگائی ہےاور وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
مصطفیٰ
کمال،سربراہ پاک سرزمین پارٹی۔ پیٹرول پر اوگرا کم کی شفارش کررہا ہے اور آپ پانچ روپے
بڑھا رہے ہیں۔
سربراہ
پی ایس پی نےکراچی اورحیدرآبادکےحقوق کےلیےجلسےکابھی اعلان کیا۔۔۔اورکنٹونمنٹ انتخابات
میں ناکامی کی وجہ بتادی۔
مصطفیٰ
کمال،سربراہ پی ایس پی۔ جب بھی آپ سچ بولتے ہیں تو مشکالات رہتی ہیں۔ جب بھی آپ سچ
بولتے ہیں تو مشکالات رہتی ہیں۔ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں دیگر جماعتوں کے پاس بہت پیسے
ہیں۔
مصطفیٰ
کمال نے بلدیاتی انتخابات کابھرپورتیاری کابھی دعویٰ کیا۔