بحریہ ٹاون کا پیسہ سندھ کا ہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ

نزاہت خان نزاہت خان

بحریہ ٹاون کا پیسہ سندھ کا ہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی میں انسداد تجاوزات آپریشن کے   دوران  متاثرہ افراد کی بحالی  کیس  میں سپریم کورٹ نے وزیراعلی سندھ کو بلایا لیا۔ ریمارکس دیئے صورتحال بہت خراب ہے۔ بحریہ  ٹاون سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے ۔وزیراعلی نے  کہا  افسروں کی کمی  ہے۔ جو افسر لگاتے ہیں وفاق بلالیتا ہے۔ بحریہ ٹاون کا پیسہ سندھ کا ہی ہے۔ 

  سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گجر نالہ،اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ متاثرین کی بحالی  کے معاملے پر سماعت ہوئی۔  چیف جسٹس نے  ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سےجمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ لوگ عدالت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہ کیا رپورٹ پیش کی ہے آپ نے ۔ بلائیں وزیر اعلی سندھ کو ابھی ان سے ہی پوچھیں گے ۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چیف جسٹس نے  کہا حضور بتائیں شہر کی کیا حالت ہوگئی ہے۔ لوگوں کو صاف پانی نہیں مل رہا۔ جب سے پاکستان بنا ہے وہی سڑکیں موجود ہیں۔  وزیر اعلی نے کہا     ہمارے پاس افسران کی کمی ہے۔ ایک افسرچارچارافسران کی جگہ پرکام کررہا ہے۔  جو افسر تعینات کرتےہیں اسے وفاق واپس بلالیتاہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو  میں یہ موقف دہرایا۔

دورا ن سماعت چیف جسٹس  نے کہا آپ سیاسی بیان نہ دیں ۔کام کرکےدکھائیں۔  وزیراعلی نے کہا وہ  سیاسی بیان نہیں دے رہے  بلکہ حقیقت بیان کررہے ہیں۔ پچھلے سال شدید بارش ہوئی۔ متاثرین کی بحالی کے لیے سندھ حکومت نے  200 ایکڑ زمین دی۔  آپ کے کہنے پر نالوں کی صفائی کے لیے 31  ارب این ڈی ایم اے کو دیئے۔بحریہ ٹاون کے پیسے سے متعلق وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا سر یہ سندھ  کی  عوام کے پیسے ہیں، عوام پر لگانے کے لیے مانگ رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الحسن  نے کہا ۔۔جی۔۔یہ سندھ کے عوام کے ہی پیسے ہیں۔ بحریہ  ٹاون سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر خدا نا خواستہ دوبارہ کوئی  آفت  آجا ئے۔۔ تو کیا آپ ہم سے پیسے مانگ کر کام کریں گے۔ آپ شہر   نہیں  صوبے کے  وزیر اعلیٰ ہیں۔