اسلام آباد رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال کی پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہےکہ
ریاست اور پولیس کے درمیان لڑائی اور تصادم ہے
ایسے ماحول میں سیاسی ورکر ایسے حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے
نواز شریف وزیراعظم تھے مگر اقامہ پر انھیں گھر بھیج دیا گیا تھا
جعلی ڈگریوں پر کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز کو گھر جاتے دیکھا
عدالتوں نے منتخب لوگوں کو گھر بھجا ایک سینیٹر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایک خط لکھا گیا
خط میں پوچھا گیا کہ کیا دوہری شہریت رکھنے والا شخص جج بن سکتا ہے؟
اج جواب دیا گیا خط کا،کہا گیا کہ آئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں
آئین میں بےشک نہ ہو لیکن کیا آپ دوسرے ملک میں حلف اٹھائیں اور پھر یہاں ا کر اہم عہدے پر بیٹھ جائیں
سوشل میڈیا پر دیکھ رہئے ہیں کہ جج صاحب اور ان کی فیملی سے متعلق شہریت سے متعلق سوالات اٹھ رہئے ہیں
ہمارے یہاں اگر ظلم ہے تو سب سے زیادہ ظلم عدلیہ میں ہے
انصاف کا نظام ہمارا فیل ہو چکا ہے حکومت، اسٹیبلشمنٹ، پولیس سب ظالم ہے لیکن عدالت نے تو انصاف دینا ہوتا ہے نا جب ایک شہری ظلم سے بھاگ کر آپ کے پاس اتا ہے تو انصاف نہیں ملتا سالوں ایک ایک کیس پڑا رہتا ہے مگر اس پر فیصلہ نہیں ہوتا
سود سے متعلق کئی فیصلے عدالتوں سے ا چکے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا