کراچی ڈیفنس کے بنگلے میں جواں سالہ ملازمہ کی پراسرار ہلاکت پر ورثا سراپائے احتاج بن گئے،

نزاہت خان نزاہت خان

کراچی ڈیفنس کے بنگلے میں جواں سالہ ملازمہ کی پراسرار ہلاکت پر ورثا سراپائے احتاج بن گئے،

کراچی ڈیفنس کے بنگلے میں جواں سالہ ملازمہ کی پراسرار ہلاکت پر ورثا سراپائے احتاج بن گئے،

 کورنگی روڈ سے گورنر ہائوس اور پھر پریس کلب کے باہر احتجاج، ورثا کا دعویٰ ہے کہ بچی کو قتل کیا گیا ہے اور پولیس واقعہ کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے،

وزیر داخلہ نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا،

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بنگلے کی ملازمہ پاریہ کماری عرف ماریہ کی ہلاکت کا معاملہ، ورثا اور عزیز و اقارب کا شدید احتجاج،

پاریہ کے والد ہیرا کہتے ہیں واقعہ سے کچھ دیر پہلے ہی بیٹی سے فون پر گھر والوں کی بات ہوئی تھی،

خواتین کہتی ہیں پاریہ کے جام پر تشدد کے نشانات بھی تھے، اسے قتل کیا گیا ہے، ہمیں انصاف چاہیے،

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سائوتھ سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے،

پاریہ کماری کی ہلاکت کا واقعہ  12 مئی کو پیش آیا تھا، بنگلے کے مالکان کا دعوہ تھا کہ پاریہ نے بنگلے میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کی ہے جبکہ پولیس نے پاریہ کے ورثا کے دعوی پر بنگلے کے مالکان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا

تاہم پاریہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی تھی تاحال وجہ موت سامنے نہیں آسکی ہے.