سینیٹ اجلاس ، پیپلزپارٹی نے پی آئی اے نجکاری کی مخالفت کردی

عمران عمران

سینیٹ اجلاس ، پیپلزپارٹی نے پی آئی اے  نجکاری کی مخالفت کردی

سینیٹ اجلاس ، پیپلزپارٹی نے پی آئی اے  نجکاری کی مخالفت کردی

 سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ پی آئی اے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے ،

عبدالعلیم خان کا کہناتھاکہ پی آئی اے میں نچلے طبقے کے ملازمین کے زیادہ اخراجات نہیں،

اگر زیادہ بھرتیاں کی گئی ہیں  تو دیکھا جائے ذمہ دار کون ہے ،

پی آئی اے کو آج 830ارب روپے  خسارے کا سامناہے ،وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے کہاکہ پی آئی اے کے پاس 18جہاز اور 10 ہزار ملازمین  ہیں،

پی آئی اے کی نجکاری میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا،

کوشش ہے پی آئی اے کے 51فیصد شیئر حکومت اپنے پاس رکھے،

یقین ہے کہ جب  شیئرز کی ویلیو بڑھ جائے گی تو ہمیں فائدہ ہوگا، شیری رحمان کا وفاقی وزیر نجکاری سےسوال، پی آئی اے کے  ملازمین کا کیا ہوگا ؟ وفاقی وزیر نجکاری نے کہاکہ

اتنی سکت نہیں  کہ سالانہ 100ارب روپے کی سبسڈی دے سکے ،

قراۃ  العین مری نے پی آئی اے نجکاری سے متعلق  توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں جمع کروادیا

پی آئی اے کے ملازمین کی تنخواہوں  میں سالوں سے اضافہ نہیں کیا گیا،

پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شفاف نہیں  ہے،

کیا پی آئی اے  ملازمین سے متعلق سوچا جارہا ہے؟