بیوروکریسی نوآبادیاتی تصور کو چھوڑ کر عوامی خدمت کو ترجیح دے۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ

نزاہت خان نزاہت خان

بیوروکریسی نوآبادیاتی تصور کو چھوڑ کر عوامی خدمت کو ترجیح دے۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ

بیوروکریسی نوآبادیاتی تصور کو چھوڑ کر عوامی خدمت کو ترجیح دے۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ


نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کراچی میں 41 ویں مڈ کریئر مینجمنٹ کورس (MCMC) کی اختتامی تقریب


وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی بطور مہمان خصوصی شرکت


کراچی 

 وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کراچی میں منعقدہ تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوۓ کہا ہے کہ بیوروکریسی کو نوآبادیاتی دورِ نظام کے مائنڈسیٹ کو خود سے مکمل طور پر الگ کرنا ہوگا، برطانوی حاکمیت کا مقصد ایک تسلط کو قائم رکھنے کے لئے تھا، جس سے اس خطے کے لوگوں نے عوامی طاقت سے چھٹکارا حاصل کیا، بیوروکریسی کا موجودہ تصور عوامی خدمت کے سوا کوئی اور نہیں ہونا چاہیے۔ جمع کے روز ہونے والی 41 ویں مڈ کریئر مینجمنٹ کورس (MCMC) کی اختتامی تقریب تقسیم اسناد کے سلسلے میں رکھی گئی تھی، جس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس دوران اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کالونیل لیگسی سے نکل کر حقیقی عوامی خدمت کے تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے، یہ طے کرنا ہوگا کہ افسران کو صرف نوکری کرنی ہے کا عوامی خدمت۔ انہوں نے کہا کہ اصل سکون انسانی ذات کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے سے ہی ملتا ہے، خدمت کے تصور میں عوامی فلاح کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کا بھی احساس ہونا چاہیے، موجودہ دور میں سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کے معاملات سنجیدگی سے نظر میں رکھیں یہ آئیندہ نسلوں کی بقاء کے لیے ضروری امر ہے۔ سردار شاہ نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہمیں فوڈ سیکیورٹی جیسے مسائل بھی درپیش ہو سکتے ہیں، ہمیں اس ضمن میں ترجیحات طے کرنا ہونگی کہ اس معاشرے ہو کہاں پر لے کر جانا ہے۔ سردار شاہ نے کہا کہ ہمارے ملک میں 25 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہر سال چار ہزار کلاس رومز کی ضرورت بڑھ رہی ہے، سرکاری پالیسیوں کا اطلاق بیوروکریسی کی مدد کی بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمینٹ کراچی کے ڈاریکٹر جنرل ڈاکٹر سیف الرحمان نے کورس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اس موقع پر انہوں نے افسران سے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا کہ کبھی بھی اچھا کام کرنے سے انہیں گھبرانا نہیں چاہیے، افسران انسانیت کے لئے بغیر کسی تقسیم کے خدمات سرانجام دینے کے جذبے کو مقصد بنائیں۔ تقریب کے اختتام پر 34 افسران کو تربیت مکمل کرنے پر سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا، 32 مرد اور 2 خواتین افسران کو سرٹیفکیٹ دیے گئے، ایم سی ایم سی مکمل کرنے والے افسران میں ان-لینڈ روینیو سروسز گروپ کے 5، آفیس مینجمینٹ گروپ گروپ کے 5، پی سی ایس گروپ کے 4 افسران شامل تھے جبکہ اے ایس ایف، سپریم کورٹ، ایویشن ڈیویثن اور الیکشن کمیشن کے ایک ایک افسر نے بھی سرٹیفکیٹس حاصل کیے۔ افسران کو سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں کے مختلف وزارتوں اور محکموں کے بھی دورے کرواۓ گئے۔