حکومت سندھ نے بین الاقوامی شراکت داروں کو آگاہ کیا ہے کہ دوہزار بائیس کے سیلاب میں سندھ کا ستر فیصد رقبہ ڈوب گیا۔ بحالی کےلئے ساڑھے گیارہ ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا۔ بین الاقوامی شراکت داروں نے پانچ ارب ، سڑسٹھ ڈالر کی فنڈنگ کی۔
حکومت سندھ اور اقوام متحدہ کی مشترکہ میزبانی میں بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی سے متعلق تقریب ہوئی۔ سندھ کے وزیر منصوبہ بندی ناصر شاہ نے بتایا کہ سیلاب سے ایک لاکھ گھر تباہ ، بیس ہزار اسکول اور سینتیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ آٹھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے گیارہ ارب ستاون کروڑ ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے تین ارب ترپن کروڑ ڈالر کے وعدے کئے گئے۔ اس طرح آٹھ ارب ڈالر کی مالیاتی خلیج کا سامنا ہے۔ بین االاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے سندھ کی پانچ ارب سڑسٹھ کروڑ ڈالر کی فنڈنگ کی۔ اس میں چھیاسی کروڑ سے زائد امداد اور چار ارب، اسی کروڑ سے زائد قرضہ ہے۔ وزیر منصوبہ بندی ناصر شاہ نے بتایا سندھ میں سات سو نواسی واٹر سپلائی اسکیموں اور نکاسی کی چار سو چوالیس اسکیموں کےلیے بھی فوری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔صاف پانی کے لئے بارہ سو آر او اور یو ایف پلانٹس لگانے کےلئے بھی سرمایہ درکار ہے۔