سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں 2 روزہ اسٹوڈنٹس گالا کا آغاز

صبانور صبانور

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں 2 روزہ اسٹوڈنٹس گالا کا آغاز


کراچی

سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں پیر سے "ٹوگیدر وی شائن" کے عنوان سے 2 روزہ ”ایس ایم آئی یو اسٹوڈنٹس گالا-2024“ شروع ہوا۔ اس کا افتتاح وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے ربن کاٹ کر کیا۔ اس کے بعد، انہوں نے طلباء کی طرف سے لگائے گئے اسٹالز کا دورہ کیا جس میں پاکستان کے چھ حصوں سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کی خوبصورت ثقافت کی عکاسی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ وہ مختلف پراڈکٹس اور کھانے کے اسٹالس پر گئے جہاں پر طلباء نے مختلف پروجیکٹس کی نمائش کی تھی۔ 

یہ میگا ایونٹ یونیورسٹی میں ایک سالانہ فیسٹیول کی طرح تھا، جس کا اہتمام ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اینڈ کونسلنگ (ڈی ایس اے) نے طلبہ کی سوسائٹیوں کے تعاون سے کیا تھا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں کے مقابلے اس ملک کی پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں ملک کے زیادہ تر طلباء کو تعلیم و تربیت فراہم کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ خانگی یونیورسٹیز میں طلباء کی کم تعداد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں کے درمیان فیس کے ڈھانچے اور سہولیات میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔

ڈاکٹر مجیب صحرائی نے مزید کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی پبلک سیکٹر کی یونیورسٹی ہونے کے ناطے ملک میں کام کرنے والی نجی شعبے کی بہت سی یونیورسٹیز سے بہتر ہے، جہاں پر بہترین سہولیات کے طلباء کو معیاری تعلیم دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیاں ملک اور ایس ایم آئی یو کے بہترین گریجویٹ اور بہترین وکیل پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ 

ڈاکٹر مجیب صحرائی نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ طلباء کو اسپیس دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے تخلیقی اور اختراعی خیالات اور چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کر سکیں۔ 


ان کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مادر علمی کے ساتھ وابستہ ہونے کی وجہ سے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طلباء اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پوری لگن اور ایمانداری سے قوم و ملک کی خدمت کریں۔ 


انہوں نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی طلباء برادری نے ہمیشہ مختلف مواقع پر اپنی پختگی، نظم و ضبط، ہنر اور تخلیقی کردار کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج بھی انہوں نے پاکستان کی خوبصورت ثقافت کی نمائش کی ہے جو ملک کے تنوع کی عکاسی کر رہی تھی۔  وائس چانسلر نے کہا کہ پاکستان میں ہمیں ثقافتی تنوع کے ذریعے اتحاد کی ضرورت ہے کیونکہ ملک کے مختلف صوبوں کی ثقافت میں ملک کے تمام لوگوں کو متحد کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔


ڈاکٹر مجیب صحرائی نے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اینڈ کونسلنگ کے ڈائریکٹر محمد نعیم احمد، ان کی ٹیم، ڈینز، ایم ٹی سی اور یونیورسٹی کے دیگر سیکشنز کو اس انتہائی بامعنی میگا ایونٹ کے انعقاد اور تعاون پر سراہا۔ 


قبل ازیں ڈی ایس اے کے ڈائریکٹر محمد نعیم احمد نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ یہ متحرک تقریب طلباء کی بہترین صلاحیتوں، اختراعات اور تفریح کو یکجا کرتی ہے۔



اس کے علاوہ، یہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے طلباء کے ناقابل یقین جذبے کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹوڈنٹس گالا کے ان دو دنوں کے دوران باصلاحیت طلباء کی شاندار اور دلکش پرفارمنسز، فن اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ، مختلف مقابلوں، جدید پراجیکٹس اور اسٹارٹ اپس کو دریافت کرنے کے لیے انٹرپرینیورشپ شوکیسز، تفریح اور گیمز کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ 


تقریب کے دوران ثقافتی لباس میں ملبوس طلباء نے ملک کے مختلف صوبوں کے لوک گیتوں پر پرفارم کیا اور خوب داد وصول کی۔ 


افتتاحی تقریب میں ڈینز ڈاکٹر زاہد علی چنڑ، ڈاکٹر آفتاب احمد شیخ اور ڈاکٹر جمشید عادل ہالیپوٹو، وائس چانسلر کے مشیر برائے اکیڈمک ڈاکٹر عبدالحفیظ خان اور دیگر افسران، فیکلٹی ممبران اور طلباء نے شرکت کی۔