موسمیاتی تبدیلیوں اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کا سامنا ہے۔

عمران عمران

موسمیاتی تبدیلیوں اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کا سامنا ہے۔

کراچی ایکسپو سینٹر میں دو روزہ پاکستان ایگریکلچر کوالیشن کی زرعی کنکشنز 2025 ایکسپو کی اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گی

ا،جس میں سندھ کے وزیر زراعت سردار محمد بخش خان مہر نے بطور مہمان خصوصی خطاب میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کو گندم، کپاس اور گنے کی سرکاری قیمت نہ ملی توملک میں فوڈ سیکیورٹی کا خدشہ پیدا ہوجائے گا،وفاق نے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کے حوالے سے صحیح بریف نہیں کیا،

جلد بازی میں ٹیکس لاگو کیا گیا، آئی ایم ایف کو کیا پتا کہ زرعی شعبے کی پالیسیز کیسے بنتی ہیں. سردار محمد بخش مہر کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کی معیشت کا مرکز زرعی شعبہ ہے جو عالمی زرعی سپلائی چینز میں تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے دنیا بھر میں زرعی معیشتیں اپنی سپلائی چینز کو مزید موثر اور اختراعی بنا رہی ہیں،

اس لیے ہمیں سندھ کی زراعت کو جدید اور زیادہ لچکدار بنانے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہےانہوں نے سندھ کے اہم زرعی شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گندم، چاول، گنا، کپاس اور باغبانی جیسے اہم شعبے موجود ہیں،

مگر ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کا سامنا ہے۔ وزیر زراعت نے بتایا کہ 40 فیصد باغبانی فصلوں کا ضیاع فصل کے بعد کی ہینڈلنگ میں ہوتا ہے اور گزشتہ 15 سالوں میں سندھ کو بڑے سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہےمحمد بخش خان مہر نے حکومت سندھ کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہم سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اور بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کی براہ راست مدد کو یقینی بنایا ہے


۔ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سندھ میں فصل پروگرام شروع کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے نقصان کو کم کر سکی سندھ میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہمیں دنیا کے اس حصے کے لیے روٹی کی ٹوکری بننا ہے، خاص طور پر ان فصلوں کے لیے جہاں سندھ میں آم، مرچ، پیاز اور کھجور جیسے قدرتی فوائد ہیں. سردار محمد بخش مہر نے کسانوں کو بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے اور برآمدی منڈیوں سے جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہم کسانوں کو بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے اور برآمدی منڈیوں سے جوڑنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ سندھ کی زرعی پیداوار عالمی سطح پر پہچانی جائے.

سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ پاکستان کو لچکدار زراعت کی ضرورت ہے، ماڈرن زراعت سے پیداوار بڑھانے کے جرات مندانہ فیصلے کرنے ہونگے، دنیا زرعی سپلائی چین بہتر بنانے پر کام کرتی ہے اور زراعت کو زیادہ فعال، اخترائی اور کاروباری بنارہی ہے.  پاکستان ایگریکلچر کوالیشن کے سی ای او کاظم سعید نے اس ایکسپو کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ ایگریکلچر ایکسپو سب سے زیادہ اثرانداز ایڈیشن ہے، جس میں کسانوں کی مدد کرنے والے افسران، مالی معاونت فراہم کرنے والے ادارے اور اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے ہیں جو پاکستان کے زرعی شعبے میں تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہیں


انہوں نے مزید کہا کہ زرعی کنکشنز 2025 میں پاکستان ایگریکلچر کوالیشن نے پاکستان بزنس کونسل کی حمایت سے زرعی شعبے کے لیے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اس میں مقامی اور بین الاقوامی نیٹ ورک شامل ہیں

جو حقیقی تبدیلی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں وزیر زراعت محمد بخش خان مہر نے اس موقع پر نجی شعبے اور سرمایہ کاروں کو سندھ کی زراعت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تاکہ اس شعبے کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا جا سکے۔اس تقریب میں پاکستان ایگریکلچر کوالیشن کے سی ای او کاظم سعید، اقوام متحدہ کی فوڈ کنٹری آفیسر فلورنس رولی، نیشنل بینک کے صدر رحمت حسنائی، سندھ آبادگار بورڈ کے صدر محمد نواز شاہ، پنجاب اور سندھ کے آبادگار، زرعی ماہرین اور بینک افسران بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔