شکارپور کارپوریٹ فارمنگ، چھ نئے کینال، ڈاکو راج، اور بہاری، بنگالی اور برمی افراد کو شناختی کارڈز جاری کرنے کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے شکارپور پریس کلب میں کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں ادیبوں، شاعروں، لکہاریوں، مزدوروں، وکلاء، ہاری رہنماؤں، اساتذہ، طلباء اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی۔
کانفرنس سے عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہيسر، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رابطہ سیکریٹری لال جروار، مرکزی رہنما پرھ سومرو، سچل بھٹی، سروان جتوئی، عوامی تحریک شکارپور ضلع کے آرگنائزر ستار سومرو، سماجی رہنما ڈاکٹر وزیر گھنجیو،
ادیب آزاد مغل، سندھیانی تحریک کی رہنما کوثر پھلپوٹو، سندھُو بپڑ، ادیب و شاعر محمد شریف "شاد"، عمران منگی، راشد علی لاشاری، زمان کلوڑ نے خطاب کیا۔
اس موقع پر رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے دریائے سندھ پر کینالوں کا جال بچھا کر سندھ کا پانی روکنا دہشت گردی، سندھ میں رہنے والے کروڑوں انسانوں کی نسل کشی اور ملکی سالمیت کے خلاف سازش ہے۔ پیپلز پارٹی اس دہشت گردی میں پنجاب کے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ دریائے سندھ سے چھ نئے کینال نکال کر سندھ کی سرسبز اور آباد زمینوں کو بنجر بنا کر پنجاب کی لاکھوں ایکڑ غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کا ملک دشمن، سندھ دشمن اور "گریٹر پنجاب" کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ SIFC کے تحت سندھ کی زمینوں اور وسائل کی نیلامی ہو رہی ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے سندھ کی 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین غیر ملکی سرمایہ داروں کے حوالے کی جا رہی ہے۔ گرین کارپوریٹ انیشیٹو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی، انگریز سامراجی دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح، سندھ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سندھ کی زمینیں مقامی ہاریوں کے بجائے قابض کمپنیوں کو دی جا رہی ہیں۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ گریٹر تھل کینال، چولستان کینال سمیت اسٹرٹیجک منصوبوں کے ذریعے چھ نئے کینال بنا کر سندھ کو بنجر کرنے کی سازش کی گئی ہے، جو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ مریم نواز کے ساتھ آرمی چیف کا متنازعہ منصوبوں کا افتتاح ایک سوالیہ نشان ہے۔ دریائے سندھ کے پانی، زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنا سندھ کے وجود پر حملہ ہے۔ پیپلز پارٹی میڈیا کے ذریعے کینالز کی جعلی مخالفت کرکے عوام کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی حکومت نے سندھ میں ڈاکو راج قائم کیا ہوا ہے۔ اغوا انڈسٹری کو سندھ حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ پولیس ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے جاگیرداروں اور سرداروں کی غلامی کر رہی ہے۔
ڈاکوؤں کو اسمگل شدہ جدید ہتھیاروں کی فراہمی میں قبائلی سردار اور حکومتی اہلکار ملوث ہیں۔ ڈاکو محنت کشوں، معصوم بچوں کو اغوا کرتے ہیں، مغویوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے ویڈیوز وائرل کرتے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کی حکومت ان ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی برمی، بہاری اور بنگالی افراد کو سندھ کے شناختی کارڈ دینے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے، جو سندھ کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی ایک خطرناک سازش ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بہاری اور برمی افراد کو شناختی کارڈ جاری کرنے سے متعلق قانون سازی کی کوشش سندھ دشمن سازش کا حصہ ہے۔ سندھ کے وسائل کے بعد اب سندھ کے وجود پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے عوام کسی بھی غیر ملکی کو سندھ کا شہری تسلیم نہیں کریں گے۔