کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت کو لیاری گینگ وار سرغنہ عذیر بلوچ کے خلاف پانچ مقدمات کا فیصلہ ایک ماہ تک کرنے سے روک دیا گیا۔

نزاہت خان نزاہت خان

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت کو  لیاری گینگ وار سرغنہ عذیر بلوچ کے خلاف پانچ مقدمات کا فیصلہ ایک ماہ  تک کرنے سے روک دیا گیا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت کو  لیاری گینگ وار سرغنہ عذیر بلوچ کے خلاف پانچ مقدمات کا فیصلہ ایک ماہ  تک کرنے سے روک دیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں پراسیکیوٹر جنرل  سندھ کی جانب سے عذیر بلوچ و دیگر کے خلاف کیسز کا فیصلہ کرنے سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

 عدالت نے ریمارکس دیئے ایف آئی آر میں نامزد لیاری گینگ وار کے ملزمان تو مارے جا چکے ہیں۔

 دریافت کیا جن گواہوں کے بیانات قلم بند نہیں کیے جارہے،، ان کے ناموں کی فہرست کہاں ہے ۔اسپیشل پراسکیوٹر رینجرز نےبتایا  فہرست  ٹرائل کورٹ میں جمع ہے۔

 عدالت نے ریمارکس دیئے سات سال میں دس گواہوں کے بیانات قلم بند نہیں ہوسکے۔

اس پر سرکاری وکیل نے موقف اپنایا ملزمان کے وکلاء نہیں آتے ہیں جس کی وجہ سے گواہوںکے بیانات قلم بند نہیں ہوپاتے۔

 ملزموں کے وکیل نے کہا ٹرائل کورٹ سے رپورٹ طلب کی جائے تاکہ پتہ چل سکے  پراسکیوشن کی وجہ سے کیس کتنی مرتبہ ملتوی ہوئے ۔

 عدالت نے ٹرائل کورٹ کو کیسز کا فیصلہ کرنے سے روکنے سے متعلق حکم امتناع میں ایک ماہ کی  توسیع کردی۔کیس میں نامزد ملزموں کو نوٹس  بھی جاری کردیئے۔

 پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ     انسداددہشت گردی عدالت کیسز میں  پراسیکیوشن کا موقف  نہیں سن رہی۔

عذیر بلوچ کے خلاف   کلری اور کلاکوٹ تھانے میں  پانچ مقدمات  درج ہیں۔ 

ان پر  غیر قانونی اسلحہ، دھماکہ خیز مواد رکھنے ،قتل اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔