کراچی میں ٹاونز کی حدبندیوں کے غیرمنصفانہ ہونے کے خلاف ایم کیوایم کی درخواست۔
متحدہ کا موقف ہے حد بندیاں سندھ حکومت نے کی، الیکشن کمیشن فریق نہیں۔ فوری سماعت کی استدعا پر الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین سے دس جنوری کو جواب طلب کرلیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی کے مختلف اضلاع کی حلقہ بندیوں کے خلاف ایم کیوایم کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے حلقہ بندیوں پر تو سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے۔ ایم کیوایم کے وکیل نے دلائل دیئے یہ مسئلہ ٹائونز کی حد بندیوں کا ہے۔
حد بندیاں سندھ حکومت نے کی ہیں۔ اس لئے الیکشن کمیشن فریق نہیں۔موجودہ درخواستیں ووٹرز کی جانب سے ڈی لمیٹیشن اپیلیٹ اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف ہیں۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا اس طرح کی درخواستیں پہلے مسترد ہوچکی ہیں۔ سپریم کورٹ بھی اپیل مسترد کرچکی ہے۔ ایم کیوایم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ یہ درخواستیں مختلف ہیں ۔ پندرہ جنوری کو بلدیاتی الیکشن ہے۔
فوری سماعت کی درخواست منظور کی جائے۔عدالت نے فوری سماعت کی درخواست پر فریقین کو دس جنوری کےلئے نوٹس جاری کردیئے۔ الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو دلائل کےلئے تیاری کرکے آنے کی ہدایت کی۔
درخواست میں صوبائی الیکشن کمیشن، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں متحدہ نے موقف اپنایا ہے کہ ضلع غربی میں یوسیز اور ٹاونز کی تشکیل غلط اور بدنیتی پر مبنی ہے۔اورنگی ٹاون، مومن آباد، بلدیہ، نارتھ ناظم آباد اور شاہ فیصل کالونی میں حلقہ بندیاں انتہائی غلط ہیں۔ اگر حلقہ اور حد بندیاں درست نا ہوئیں تو انتخابات منصفانہ نہیں ہو ں گے ۔