کراچی سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی کے چانسلر اکبر علی خان نے بذریعہ عدالتی احکامات یونیورسٹی کا چارج سنبھال لیا ہے۔ چانسلر اکبر علی خان نے کہا کہ ہمارا مشن ہے یونیورسٹی کو مزید بہتر بنائیں ہم سب پر لازم ہے اس یونیورسٹی کا احترام کریں اس اداراے کا تقدس پامال نا ہونے دیں اور آنے والے وقت میں اس یونیورسٹی کے لیے بہتر سے بہتر اقدام کریں۔
چانسلر سرسید یونیورسٹی اکبر علی خان نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابات کو اب کو ئی چیلنچ نہیں کیا جاسکتا اور جو لو گ ہماری فتح سے نا خوش ہیں وہ اگلے انتخاب کا انتظار کریں کیونکہ یہ انتخابات سندھ ہائی کورٹ کی زیر نگرانی ہوئے جسے سیشن کورٹ کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس موقع پر سر سید یونیورسٹی کے رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ سرسید یونیوسٹی ایک بااختیار ادارہ ہے۔ جس کا انتظامی معاملہ اموبا میں پیش آنے والی قانونی اور دیگر کاروائیوں سے متاثر نہیں کیا جاسکتا لہذا رجسٹرار کو یونیورسٹی کی کوڈ بک یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ انتظامی امور میں حامل روکاوٹوں کے ختمے کے لیے مو ثر اقدام کریں جو کسی بھی غیر متعلقہ عدالتی کاروائی سے متاثر نہ ہوں۔
رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ کچھ غیر متعلقہ افراد نے عدالتی آرڈر کی غلط تشریح کر کے میڈیا میں خود کو یونیورسٹی کا چانسلر اور وی سی ظاہر کیا جبکہ سندھ ہائی کورٹ کی زیر نگرانی ہونے والے اموبا الیکشن 2025 کے مطابق چانسلر اکبر علی خان رہینگے۔