لاڑکانہ: ڈی آئی جی آفس کے باہر فائرنگ، میرپور بُرڑو کے ایس ایچ او نظیر حسین چانڈیو شہید

عرفان علی عرفان علی

لاڑکانہ: ڈی آئی جی آفس کے باہر فائرنگ، میرپور بُرڑو کے ایس ایچ او نظیر حسین چانڈیو شہید

لاڑکانہ: ڈی آئی جی آفس کے باہر فائرنگ، میرپور بُرڑو کے ایس ایچ او نظیر حسین چانڈیو شہید


 لاڑکانہ میں دن دیہاڑے نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ڈی آئی جی آفس اور کیمیکل و فرانزک لیبارٹری کے قریب میرپور بُرڑو تھانے کے ایس ایچ او سب انسپکٹر نظیر حسین چانڈیو کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور زخمی ایس ایچ او کو فوری طور پر ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، تاہم وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔


واقعے پر ایس ایس پی لاڑکانہ نے نوٹس لیا اور ڈی ایس پی سول لائن سعد جبار کی قیادت میں شہر بھر کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ جائے واردات سے شواہد اکٹھے کیے گئے اور گردونواح سے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔


شہید ایس ایچ او کے لواحقین نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، شفاف تحقیقات کر کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات فی الحال معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔


ذرائع کے مطابق شہید افسر کا تعلق ڈکھن کے گاؤں مور خان چانڈیو سے تھا، وہ طویل عرصے سے شکارپور میں مقیم تھے اور حال ہی میں میرپور بُرڑو تھانے پر بطور ایس ایچ او تعینات ہوئے تھے۔


واقعے کے بعد پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی میت ورثا کے حوالے کر دی گئی، جو لاش لے کر گاؤں روانہ ہو گئے۔ گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ آخری اطلاعات تک واقعے کا مقدمہ درج نہ ہو سکا اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں آئی۔


ڈکھن میں سرچ آپریشن، خاتون زخمی


دوسری جانب شہید ایس ایچ او نظیر چانڈیو کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ڈکھن کے قریب بخشا شاخ گاؤں میں سرچ آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک خاتون وزیراں زوجہ امجد چانڈیو زخمی ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق آپریشن ایس ایس پی احمد فیصل چوہدری کی قیادت میں کیا گیا، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔


پولیس اور فریقین کے درمیان ماضی میں پانچ سال سے تنازعہ جاری ہے، جس میں اب تک چھ افراد قتل ہو چکے ہیں۔ مقتول کے گن مین کے مطابق نظیر چانڈیو کو ڈی آئی جی کی کال پر دفتر بلایا گیا تھا، وہ کار میں موجود تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔